.

حزب اللہ کی حکومت تشکیل پانے کے بعد امریکی امداد روک دی جائے گی: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں حسان دیاب کی قیادت میں حزب اللہ کی حکومت کی تشکیل کے بعد امریکا لبنان کے لیے تمام امداد روک دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس بات کا انکشاف امریکی قومی سلامتی کے امور سے متعلق اخبار Free Beacon کی جانب سے جاری خصوصی رپورٹ میں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق لبنان کے لیے امریکی امداد کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں پائے جانے والے اختلافات ختم ہو چکے ہیں۔ اب لبنان میں حسن دیاب کی سربراہی میں حزب اللہ کی حکومت کی تشکیل کے بعد مذکورہ امریکی امداد روک دی جائے گی۔

اخبار نے باور کرایا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں تمام لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ لبنان میں نئی حکومت ایران نواز حزب اللہ کے زیر کنٹرول ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ وزارت خارجہ نے کانگرس کو متنبہ کر دیا تھا کہ اگر امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم حزب اللہ کے ہاتھوں میں گئی تو لبنان کی مالی امداد روک دی جائے گی۔

لبنان کی غیر مشروط امداد کے خلاف کانگرس میں معرکے کی قیادت کرنے والے سینیٹر ٹیڈ کروز نے ٹرمپ انتظامیہ سے وعدہ لیا تھا کہ اگر یہ واضح ہو گیا کہ مستفید ہونے والا فریق حزب اللہ ہے تو امریکی امداد کا سلسلہ روک دیا جائے گا۔ اخبار نے یہ بات اس معاملے کی جان کاری رکھنے والے امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتائی۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے دسمبر کے اواخر میں کروڑوں ڈالر کی رقم لبنان بھیجی۔ اس سے قبل امریکی قومی سلامتی کونسل اور وزارت خارجہ میں ٹرمپ کے حامیوں کے اعتراضات کے سبب اقتصادی اور عسکری امداد روک دی گئی تھی۔ مذکورہ عناصر کو اندیشہ ہے کہ یہ رقوم حزب اللہ اور لبنانی حکومت میں اس کے حلیفوں کے لیے براہ راست مدد کا ذریعہ بنیں گی۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے سکریٹری برائے سیاسی امور ڈیوڈ ہیل نے لبنانی عہدے داران کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں میں ریڈ لائن وضع کر دی تھی۔ لبنانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق ڈیوڈ ہیل نے بتا دیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ حزب اللہ کے زیر کنٹرول کسی بھی حکومت کو امریکی امداد سے محروم کر دے گی۔

امریکی اخبار کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کے مطابق سینیٹر ٹیڈ کروز نے لبنان میں آئندہ سفیر کے طور پر وزارت خارجہ کی امیدوار ڈورتھی شیا کی نامزدگی سے استفادہ کیا۔ اخبار کو حاصل ہونے والی تحریر میں ڈورتھی نے لکھا ہے کہ "میں ہدایات کے مطابق امریکی قانون اور پالیسیوں پر عمل درامد کی پابند ہوں۔ ان میں اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ امریکی امداد کسی طور بھی حزب اللہ یا کسی دوسری دہشت گرد جماعت کو فائدہ نہ پہنچائے"۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ لبنان میں حال ہی میں منتخب ہونے والی حکومت نے ملک کو پہلے کسی بھی وقت سے زیادہ حزب اللہ کے قریب کر دیا ہے۔ اس کے ارکان ایسے افراد پر مشتمل ہوں گے جو اعلانیہ طور پر اس دہشت گرد تنظیم کی حمایت کرتے ہیں اور اپنے احکامات تہران سے وصول کرتے ہیں۔

امریکی جریدے فارن پالیسی نے رواں ہفتے بتایا تھا کہ "وزیراعظم حسان دیاب کی حکومت" لبنان کی تاریخ کی پہلی حکومت ہو گی جو خاص طور پر لبنان میں ایران کی حلیف تنظیم حزب اللہ کے زیر قیادت پارلیمانی اتحاد کے زیر نگیں ہو گی۔

ڈیموکریٹک ڈیفنس سے متعلق امریکی ادارے کے ایک لبنانی ماہر ٹونی بدران کے مطابق سابقہ لبنانی حکومتوں کے برعکس حال میں تشکیل پانے والی حکومت تہران کے ساتھ اپنے تعلقات ڈھانپنے کے لیے کسی قسم کی کوشش نہیں کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو اس پیش رفت کو تسلیم کرنا چاہیے اور اسے لبنان میں نئی حکومت کے ساتھ ایرانی علاقائی نیٹ ورک کے ایک حصے کے طور پر معاملہ کرنا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں