.

تہذیبی رابطے کے منصوبے "سلام" کے تحت بچوں میں رواداری کا پروگرام متعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں تہذیبی رابطے کے منصوبے "سلام" کے تحت جمعے کے روز بچوں کے لیے رواداری کا ایک پروگرام شروع کیا گیا۔ پروگرام کا مقصد مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں میں مشترکہ انسانی اقدار کے مفہوم کو مضبوط بنانا ہے۔ مزید یہ کہ بچوں میں بیرونی دنیا کی بدلتی معلومات کے ساتھ نمٹنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ بچوں میں رواداری کی جڑیں پیدا ہوں تا کہ وہ اپنے معاشروں میں امن کے سفیر بنیں۔

اسی طرح مذکورہ پروگرام کے مقاصد میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے درمیان رواداری کا پیغام پھیلانا اور اختلاف کو قبول کرنے کی روش کو جنم دینا شامل ہے۔ اس واسطے ایسی ثقافتی سرگرمیاں ترتیب دی گئی ہیں جو آنے والی نسلوں میں تنوع اور ثقافتی باہمی بقاء کو قبول کرنے کا مزاج متعارف کرائیں۔

رواداری پروگرام میں سعودی عرب میں مقیم مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بچوں نے شرکت کی۔ ان ممالک میں امریکا، پاکستان، بھارت، جنوبی افریقا، برطانیہ، کینیڈا، جاپان، جنوبی کوریا، ہسپانیہ، لیٹیویا اور سعودی عرب شامل ہیں۔

علاوہ ازیں تہذیبی رابطے کے منصوبے "سلام" کے تحت نوجوان مرد اور خواتین کے گروپوں کو تربیت دی جا رہی ہے تا کہ سعودی شہریوں اور دیگر قومیتوں کے حامل افراد کے درمیان کشادہ رابطے اور مثبت مفاہمت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کا مقصد تمام لوگوں کے بیچ مشترکہ انسانی اور ثقافتی عوامل کو متعارف کروانا اور ایسے امور کے بارے میں مفاہمت کا دروازہ کھولنا ہے جو دیگر معاشروں اور ثقافتوں کے نزدیک واضح نہ ہوں۔ اسی طرح بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر مملکت سعودی عرب کی حقیقی تصویر کی نمائندگی کرنا اور دیگر معاشرے کے لوگوں میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے۔