.

کرونا وائرس میں مبتلا ایرانی مرکزی بینک کے 6 ملازمین ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکومتی اہلکاروں میں کرونا وائرس بڑے پیمانے پر پھیلنے کی اطلاعات ہیں۔ تقریبا ہر نئے دن اس مہلک وائرس میں مبتلا ہونے والوں کے مزید کیس سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی میڈیا نے جمعے کے روز بتایا کہ تہران سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ فاطمہ رہبر کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد بے ہوشی کی حالت میں ہیں۔ ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق فاطمہ کی حالت "بہت خراب" ہے۔ اس سے قبل ایرانی عدلیہ کے معاون علی خلفی اور شام میں ایران کے ایک سابق سفیر حسین شیخ الاسلام کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر موت کا شکار ہو چکے ہیں۔

ادھر ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی نے انسٹاگرام پر اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا ان کے چھ ملازمین فوت ہو گئے ہیں۔

ایرانی حکومت نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو قابو میں کرنے کے لیے گذشتہ ہفتے بینکوں اور سرکاری دفاتر میں ڈیوٹی کے اوقات آدھے کر دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم کرونا کے انسداد کے لیے قومی کمیٹی نے جمعرات کے روز اس فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے حسب سابق ڈیوٹی اوقات بحال کر دیے تھے۔

یاد رہے کہ ایرانی وزارت صحت نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ کرونا کے سبب اموات کی مجموعی تعداد 107 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں اب تک اس وائرس سے متاثر ہونے کے 3513 کیس سامنے آ چکے ہیں۔

اس سے قبل ایرانی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ کرونا وائرس کے پیشِ نظر ملک کے تمام اسکول اور جامعات ایک ماہ کے لیے بند رہیں گی۔ علاوہ ازیں شہروں کے درمیان رکاوٹیں قائم کی جائیں گی تا کہ سفر اور متعدی وائرس کی منتقلی کو روکا جا سکے۔