.

یمن : اقوام متحدہ کی گاڑیاں حوثیوں کے قبضے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں باغی حوثی ملیشیا نے کئی ہفتوں کی خاموشی سادھنے کے بعد آخر کار صنعاء میں کرونا وائرس کے متاثرین کی موجودگی کا اقرار کر لیا۔ حوثیوں نے دعوی کیا ہے کہ مذکورہ کیسوں کے عدم اعلان کا سبب کرونا وائرس کے انکشاف کے واسطے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھیجے جانے والے محلول کا ٹھیک اور مؤثر نہ ہونا ہے۔

ادھر بعض مقامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری تصاویر میں حوثی ملیشیا کے عناصر کو عالمی ادارہ صحت کی ایمبولینس گاڑیوں میں ملک کے مختلف حصوں میں گھومتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ حوثی باغی ان ایمبولینس گاڑیوں کو لڑائی کے محاذ پر زخمی ہونے والے اپنے ارکان کو ہنگامی امداد فراہم کرنے کے واسطے استعمال میں لا رہے ہیں۔

دریں اثنا "2 دسمبر نیوز ایجنسی" کا کہنا ہے کہ تصاویر میں نظر آنے والی ایمبولینس گاڑیاں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یمن میں طبی مراکز کو پیش کی گئی تھیں۔ تاہم حالیہ کچھ عرصے سے یہ گاڑیاں مسلح حوثیوں کے قبضے میں دکھائی دے رہی ہیں۔ اس سے قبل حوثی ملیشیا کے ارکان نے 2017 سے 2018 کے درمیان اقوام متحدہ کی 50 کے قریب گاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

حوثی ملیشیا نے جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھیجے گئے خصوصی پونچھوں کے غیر معیاری اور درست نہ ہونے کے سبب لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج پر خراب اثر پڑا اور غیر انسانی نمونوں میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثتب آیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ دارالحکومت صنعاء سمیت یمن کے کئی علاقوں اور صوبوں میں کوویڈ 19 سے متاثرہ کیس سامنے آئے۔

یہ بیان یمنی آئینی حکومت کی جانب سے بارہا خبردار کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ حکومت کا یہ کہنا رہا کہ دارالحکومت میں کرونا سے متاثرہ افراد پر پردہ ڈالے رکھنے کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔

آئینی حکومت کے ذمے دار اور وزیر مملکت عبدالغنی جمیل نے دو روز قبل صنعاء کے باسیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہر وبا کے سبب آفت زدہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے عالمی ادارہ صحت، اقوام متحدہ اور متعلقہ تنظیموں سے فوری مداخلت کی اپیل بھی کی۔

ایک بیان میں عبدالغنی جمیل نے باور کرایا کہ آئینی حکومت صنعاء میں متاثرہ افراد اور اموات کے پھیل جانے کے بعد وہاں کی طبی صورت حال کے حوالے سے گہری تشویش رکھتی ہے۔ اس دوران حوثی ملیشیا لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی حقیقت کو چھپا رہی ہے۔ ملیشیا شہریوں کو کھل کر صورت حال کے بارے میں نہیں بتا رہی کہ وہ احتیاطی اقدامات اختیار کریں اور بین الاقوامی تنظیمیں مطلوبہ امداد پیش کر سکیں۔