.

ایرانی پاسداران انقلاب اھواز میں اسٹیل کے تمام ذخائر ہتھیانے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب جو اہواز میں اسٹیل کے کارخانوں کے 49 فی صد حصص کا مالک ہے، صوبے میں موجود اسٹیل کی دیگر تمام صنعتوں اور کارخانوں کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔

فارسی زبان کےنشر ہونے والے ریڈیو فردا نے اطلاع دی ہے کہ "یاس" ہولڈنگ کمپنی کے ڈائریکٹر محمد قائمی نے 27 جون کو ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام اقتصادی امور اور تعمیر نو کے اسسٹنٹ کمانڈر صادق ذوالقذرنیا کو ایک مکتوب ارسال کیا جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاسداران انقلاب نے "یاس" کمپنی میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی مداخلت کی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

خیال رہے کہ اہواز میں اسٹیل کمپنی"یاس" ایران میں اسٹیل کی تین بڑی پیداواری فرموں میں سے ایک ہے۔ اس کے 51 فیصد حصص عام سرمایہ کے پاس ہیں، لیکن ایرانی پاسداران انقلاب کمپنی کے انتظام و انصرام کو مرکزی شیئر ہولڈر کے طور پر کنٹرول کرتا ہے۔

اھواز دوسرا سب سے بڑا اسٹیل پروڈیوسر

ایران کا عرب اکثریتی صوبہ اہوازخام اسٹیل اور اسٹیل کی مصنوعات کے حوالے سے مشہور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہے کہ اھواز کو ایران میں اسٹیل مصنوعات اور خام اسٹیل کا دوسرا بڑا پروڈیوسر قرار دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ مقامی اطلاعات کے مطابق اس کیس میں شامل پاسداران انقلاب کی کمپنیاں اپنے اثاثے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر میں منتقل کر سکتی ہیں۔

کوآپریٹو کے دائرہ کار میں کام کرنے والی پاسداران انقلاب کی "یاس" کمپنی ہاؤسنگ سیکٹر کی ایک اہم ترین کمپنی سمجھی جاتی ہے۔ گذشتہ تین سالوں کے دوران اس کمپنی میں متعدد مالی بدعنوانی کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔

ایک کیس میں تہران کی میونسپلٹی کے ساتھ تقریبا 3.2 ارب ڈالر کا بڑا غبن سامنے آیا جس کے نتیجے میں تہران کے سابق ڈپٹی میئر عیسیٰ شریفی جو سابق میئر محمد باقر قالیباف کے نائب کی حیثیت سے کام کرتے تھے کو جیل کی ہوا کھانا پڑی۔