.

ترکی کی فوج کا عراقی سرحد کے اندر 15 کلو میٹر تک قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی جانب سے عراق کی سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ عراقی پارلیمنٹ میں سیکورٹی اور دفاع کی کمیٹی کے سربراہ محمد رضا آل حیدر نے ترکی کی عسکری مداخلت پر ناراضی اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ کی فوج نے حد سے تجاوز کرتے ہوئے سرحدی پٹی کے اندر تقریبا 15 کلو میٹر تک قبضہ کر لیا۔

عراقی خبر رساں ایجنسی کے مطابق منگل کے روز جاری بیان میں آل حیدر نے مزید بتایا کہ ترکی سابقہ سیکورٹی سمجھوتے کا سہارا لے رہا ہے جس میں سرحدی پٹی کے اندر پانچ سے سات کلومیٹر تک داخلے کی اجازت طے پائی تھی۔

کمیٹی کے سربراہ کے مطابق عراق کسی بھی ملک کی جانب سے عراق کی خود مختاری کی دھجیاں اڑانے اور اس کی سرزمین کے اندر فضائی بم باری کی کارروائیاں کرنے کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ ساتھ ہی عراقی حکام اپنی سرزمین پر ایسے مسلح گروپوں کے وجود کو بھی مسترد کرتے ہیں جو کسی پڑوسی ملک کو حملوں کا نشانہ بنائیں۔

یاد رہے کہ ترکی جانب سے شمالی عراق میں زمینی اور فضائی فوجی آپریشن کا آغاز جون کے وسط میں ہوا تھا جب ترکی نے اپنی افواج کو فضائی راستے شمالی عراق منتقل کیا۔ اس تاریخ کے بعد سے خود مختاری کی خلاف ورزیوں اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس نے سرحدی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ غصے میں بپھری بغداد حکومت نے ترکی کے سفیر کو دو بار طلب کر کے احتجاجی یادداشت حوالے کی۔

گذشتہ روز پیر کو بھی ترکی نے شمالی عراق میں کرد دیہات پر توپ کے 15 گولے داغے۔ اسی طرح عراق کے صوبے دہوک میں بھی تزویراتی اہمیت کے حامل جبل خامتیر کے اطراف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

ترکی کی بم باری کے نتیجے میں عراقی کرد دیہات کے باشندوں کی املاک اور کھیتوں میں آگ لگ گئی۔