.

غربِ اردن: یہودی آباد کاروں کی مسجد کو نذرآتش کرنے کی کوشش،آتش گیر سے بم حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی نے اطلاع دی ہے کہ غربِ اردن میں واقع شہر رام اللہ کے نزدیک قصبے البیرہ میں یہودی آباد کاروں نے ایک مسجد کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس پر آتش گیر بم سے حملہ کیا ہے۔

فلسطین کے مذہبی امور کے نائب وزیر حسام ابوالرب نے سوموار کے روز بتایا ہے کہ یہودی آباد کاروں نے نصف شب کے بعد اس مسجد پرحملہ کیا تھا۔انھوں نے عبرانی میں فلسطینیوں کے خلاف سیاہ رنگ میں نعرے لکھ دیے تھے اور اس کے بعد مسجد کے اندر آتش گیر بم پھینکے ہیں جس سے مسجد کے اندرونی حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔

البیرہ کا قصبہ رام اللہ کے نزدیک ایک یہودی بستی کے مخالف سمت پہاڑی پر واقع ہے۔متاثرہ مسجد کی ایک دیوار پر انھوں نے یہ لکھ دیا تھا:’’عربوں کا محاصرہ کریں ، یہودی آبادکاروں کا نہیں۔‘‘

ابو الرب نے کہا ہے کہ حملہ آوروں نے ایک فائر بم مسجد کی ایک کھڑکی سے اندر پھینکا تھا اور اس سے بیت الخلا کا ایک حصہ جل گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر یہ آتش گیر بم اندرونی حصے میں قالین پر گرتا تو تمام مسجد مکمل طور پر جل جاتی۔‘‘ انھوں نے اسرائیلی حکومت کو اس حملے کا ذمے دار قرار دیا ہے جس نے ان کے بہ قول ’’یہودیوں کو ہماری سرزمین پر قبضے اور ہمارے عوام کو دہشت زدہ کرنے کا راستہ دکھایا ہے۔‘‘

اسرائیلی پولیس نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ کیا ہے اور نہ کسی یہودی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے لیکن اس کو سخت گیر قوم پرست یہودیوں کا’’قیمت چکانے‘‘ کا حملہ قرار دیا گیا ہے۔

انھوں نے ماضی میں فلسطینی سرزمین پر عربوں کے خلاف ایسے لاتعداد حملے کیے ہیں۔وہ ان انتقامی حملوں میں فلسطینیوں کو نشانہ بناتے ہیں یا پھر عیسائیوں اور مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو حملوں میں ہدف بناتے رہتے ہیں۔