.

اسرائیلی فوج کی لبنان کے ساتھ سرحد پر بھرپور تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے لبنان کے ساتھ سرحد پر دفاعی اقدامات کے علاوہ جارحیت کے حوالے سے بھی تیاری مضبوط بنا لی ہے۔ یہ جولائی 2006ء کی جنگ کے بعد پہلی بار غیر معمولی نوعیت کی الرٹ پوزیشن ہے۔ اسرائیلی فوج کا یہ اقدام لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے سرحدی علاقے میں کسی بھی کارروائی کے اندیشے کے پیش نظر سامنے آیا ہے۔

حزب اللہ نے پیر کے روز جبل الشیخ کے علاقے میں کورنیٹ ٹینک شکن راکٹ کے ذریعے ایک اسرائیلی ٹینک اور فائرنگ کے ذریعے ایک اسرائیلی گاڑی کو نشانہ بنایا تھا۔ جواب میں اسرائیلی توپوں نے لبنان کے ساتھ سرحد پر واقع علاقوں پر گولہ باری کی۔

تاہم بیس منٹ سے کم دورانیے تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے سبب اسرائیل عسکری اور سیاسی طور پر چوکنا ہو گیا۔ البتہ حزب اللہ نے چند گھنٹوں بعد ہی واقعے کی مکمل طور پر تردید کر دی اور اسرائیلی بیان کو میڈیا کا ڈرامہ قرار دیا۔ دوسری جانب اسرائیلی میڈیا سرکاری عسکری موقف پر قائم رہا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق واقعے تصاویر اور وڈیو کی صورت میں واقعے کے شواہد موجود ہیں۔

یہ پیش رفت اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جارحیت کی لہر اٹھنے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔ اس تناؤ کا سبب اسرائیل کا وہ فضائی حملہ تھا جس میں شام کے اندر حزب اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک مشترکہ مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں حزب اللہ کا ایک رکن ہلاک ہو گیا تھا۔