.

امارات مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کومضبوط بنانا چاہتا ہے:انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نےکہا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین مکمل دوطرفہ تعلقات کا آغاز امارات کی قیادت کا جرات مندانہ فیصلہ ہے۔

العربیہ ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئےانور قرقاش نے واضح کیا کہ اسرائیل کا مغربی کنارے کا الحاق ایک ایسا مسئلہ تھا جو خطے کے امن کے لئے خطرہ بن سکتا تھا۔ ہم نے اسرائیل سے معاہدہ کر کے غرب اردن کے علاقوں کا الحاق روک دیا۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات شروع کر دے گا۔ امارات کے فیصلے سے فلسطینیوں کو بھی فایدہ پہنچے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اماراتی فیصلے کا مقصد فلسطینیوں کی مدد کے لیے مواصلاتی چینلز تلاش کرنا ہے۔ متحدہ عرب امارات امن عمل میں دو ریاستی حل کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ابو ظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر الشیخ محمد بن زاید النہیان نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین مکمل دو طرفہ تعلقات کو شروع کرنے پر اتفاق کیا۔

اماراتی قیادت کاکہنا ہے کہ اس تاریخی سفارتی کامیابی سے مشرق وسطی کے خطے میں امن میں اضافہ ہو گا۔ امریکی صدر، اسرائیلی وزیراعظم اور امارات کے ولی عہد نے تل ابیب اور ابو ظبی میں معاہدے کو جرات مندانہ اور حقیقی امن کی طرف اہم پیش رفت قرار دیا۔