.

عرفات زندہ ہوتے تو فلسطینی اتھارٹی کے میرے خلاف رویے کو قبول نہ کرتے: سہا عرفات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے سابق صدر مرحوم یاسر عرفات کی بیوہ ،سہا عرفات نے فلسطینی اتھارٹی کو ایک بار پھر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے حامی عناصر نے سوشل میڈیا پر میرے خلاف شرانگیز مہم برپا کر رکھی ہے جس میں میری کردار کشی کی جا رہی ہے۔

العربیہ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں‌ نے کہا کہ اگر میرے شوہر یاسرعرفات زندہ ہوتے اور ان کی موجودگی میں‌ میرے خلاف ایسی مہم چلائی جاتی تو وہ اسے کسی صورت میں‌ قبول نہ کرتے۔

سہا عرفات نے مزید کہا کہ اس کے بھائی کو العربیہ کے ساتھ انٹرویو کے بعد گرفتار کیا گیا۔ اس نے میرے بارے میں جو کچھ کہا وہ ذاتی مقاصد کے لئے نہیں تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ فلسطینی ایوان صدر نے سہا عرفات کے بھائی سفیر جبران الطویل کو جمہوریہ قبرص میں واقع فلسطینی سفارت خانے سے وزارت خارجہ کے دفتر منتقل کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن میں فلسطینی قومی فنڈ سے اس کی فائل کو سفارتی کور کی دفعات کے مطابق منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اقدام کے جواب میں سہا عرفات نے فیصلے کے الفاظ کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسے"انتقامی کارروائی" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی نے ان کے بھائی کے خلاف انتہائی ذلت آمیز سلوک کیا ہے۔