.

اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے سے متعلق قطر کا موقف کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے سے متعلق قطر کی طرف مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ خلیجی امور کے لیے امریکی نائب معاون وزیر خارجہ نے جمعرات کے روز انکشاف کیا کہ قطر نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کہا ہےکہ وہ اس سلسلے میں کھلے پن کا مظاہرہ کرے گا۔

تیمتھیس لنڈرنگ نے فون کے ذریعہ پریس بریفنگ میں کہا کہ قطر کی اسرائیل کے ساتھ مفاہمانہ کوششوں کی ایک تاریخ ہے اور دوحا اسرائیل کے ساتھ اعلانیہ بعض معاملات ڈیلنگ کرتا رہا ہے۔

قطری سفیر محمد العمادی غزہ کی پٹی کے متواتر دوروں کے لیے جانے جاتے ہیں جہاں وہ اس شعبے میں تحریک کے رہ نما یحییٰ اسنوار سے مل کر مشترکہ منصوبوں میں ہم آہنگی اور اسرائیل کے توسط سے قطری فنڈز وصول کرتے ہیں۔

پچھلے ماہ اگست میں العمادی نے کہا تھا کہ ہم غزہ پر اسرائیل کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی پر تل ابیب کے ساتھ اعلی سطح پر رابطے ہو رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کی اطلاع کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج موساد اور شن بیٹ (جنرل سیکیورٹی سروس) کے ایک سکیورٹی وفد نے قطری حکام سے غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے دوحہ کا دورہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کے بعد اماراتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امارات فلسطینیوں‌ کی مدد اور ان کے حق خود ارادیت کی حمایت کا پابند ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیر امریکی سرکاری عہدیداروں اور متحدہ عرب امارات ، بحرین اور اسرائیل کے وفود کی موجودگی میں دونوں امن معاہدوں پر دستخط کے لیے ایک تقریب کی میزبانی کی۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ الشیخ عبد اللہ بن زاید اور عبد اللطیف الزیانی نے اپنے ملکوں‌ جب کہ اسرائیلی وزیراعذطم بنجمن نیتن یاھو نے اپنے ملک کی طرف سے نمائندگی کی۔