.

شام میں عُمانی سفیر کی تقرر کے آٹھ ماہ بعد واپسی ، مکمل سفارتی تعلقات بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عُمان نے شام میں اپنے سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔وہ پہلا خلیجی عرب ملک ہے جس نے شام میں اپنے سفیر کو دوبارہ بھیجا ہے۔

خلیجی عرب ممالک نے 2012ء میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے پُرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد اپنے اپنے سفارتی عملہ کو دمشق سے واپس بلا لیا تھا یا سفارت خانوں کو بند کردیا تھا اور عملہ کی تعداد محدود کردی تھی۔

لیکن عُمان واحد عرب ملک ہے جس نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مسلح عوامی تحریک کے باوجود جزوی طور پر سفارتی تعلقات بحال رکھے ہیں اور انھیں منقطع نہیں کیا حالانکہ امریکا نے اس پر شام سے تعلقات توڑنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

شام کے وزیر خارجہ نے اتوار کے روز عُمان کے سفیر ترکی بن محمود البوصیدی سے سفارتی اسناد وصول کی ہیں۔عُمان نے انھیں مارچ میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے دمشق میں اپنا سفیر مقرر کیا تھا۔

عُمان کے سلطان طارق الہیثم نے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد تمام اقوام سے دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کا عزم کیا تھا۔عُمان کے علاوہ بحرین نے بھی دمشق میں اپنے سفارت خانہ کو کھولے رکھا ہے۔ البتہ اس نے اپنے سفارتی عملہ کی تعداد گھٹا دی تھی۔

متحدہ عرب امارات نے 2018ء کے آخر میں دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا تھا۔ تب سے وہاں اماراتی ناظم الامور تعینات ہیں اور سفارتی امور چلا رہے ہیں۔

ایک اور خلیجی ریاست کویت کا کہنا ہے کہ وہ عرب لیگ میں مفاہمت کی صورت میں دمشق میں اپنا سفارتی مشن دوبارہ کھولنے کو تیار ہے۔ واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کی شامی عوام کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کے ردعمل میں عرب لیگ نے 2011ء میں شام کی رکنیت معطل کردی تھی۔

بشارالاسد کی وفادار فورسز نے حالیہ برسوں کے دوران میں روس اور ایران کی فوجی مدد سے باغیوں کے زیر قبضہ بیشتر علاقے واگزار کرا لیے ہیں اور اب وہ وہاں اپنی عمل داری کو پختہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی فیصلہ کن پیش قدمی کے بعد اب بہت سے عرب ممالک شام میں دوبارہ اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ایران اور ترکی کے اثرورسوخ کو کم کیا جاسکے۔

ترکی شامی صدر کے مخالف مسلح باغی گروپوں کی حمایت کررہا ہے جبکہ ایران نوازشیعہ ملیشیائیں ان گروپوں کے خلاف شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑرہی ہیں۔ان میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ بھی شامل ہے۔اس لڑائی میں ان ملیشیاؤں کے سیکڑوں جنگجو بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکا نے حال ہی میں بشارالاسد ، ان کی اہلیہ اسماء سمیت متعدد اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف پابندیاں عاید کی ہیں اور ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔اس نے دنیا کی حکومتوں اور اداروں کو خبردار کیا ہے کہ جو کوئی بھی دمشق حکومت کے ساتھ کاروبار کرے گا تو وہ پابندیوں کی زد میں آ جائے گا اور اس کو بلیک لسٹ کیا جاسکتا ہے۔