خلیج کا امن اس اعتماد پر منحصر ہے جو ایران کی مداخلتوں سے منفی طور متاثر ہوا : قرقاش
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کا کہنا ہے کہ خلیج عربی کے علاقے کے امن و امان کے حوالے سے تاریخی اہمیت کی حامل بین الاقوامی دل چسپی کا آغاز اعتماد کے قائم ہونے کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ اعتماد کئی برسوں سے خلیج عربی کے معاملات میں ایرانی مداخلتوں کے سبب منفی طور سے متاثر ہوا ہے۔
جمعرات کے روز اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں قرقاش کا کہنا تھا کہ "اعتماد قائم کیے بغیر نئے بنیادی اقدامات کا آغاز اور مستقبل کے تصورات وضع کرنا مشکل ہے جن سے امن و استحکام میں مضبوطی آئے".
الاهتمام الدولي، التاريخي والمتجدد، بأمن منطقة الخليج العربي يجب أن يبدأ ببناء الثقة والتي تأثرت سلبا، عبر سنوات، بالتدخلات الإيرانية في الشأن الخليجي العربي، فبدون بناء الثقة من الصعب الإنطلاق إلى خطوات بنيوية جديدة ووضع تصورات مستقبلية تعزز السلام والإستقرار.
— د. أنور قرقاش (@AnwarGargash) October 22, 2020
اماراتی وزیر مملکت نے مزید کہا کہ "اس میں کوئی شک نہیں کہ خیلج عربی اس وقت تاریخی طور پر جارحیت اور مقابلے سے دوچار ہے۔ یہ امور خطے کے مستقبل کے حوالے سے تشویش کا پہلو رکھتے ہیں۔ امارات اس بات پر قائل ہے کہ جارحیت اور تصادم سے گریز کیا جائے۔ سیاسی راستے کو اپنانا خلیج کے امن اور استحکام کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات بنیادی حیثیت کے حامل رہیں گے".
ولا شك أن الخليج العربي يعاني تاريخياً من مخاطر التصعيد والمواجهة، وهي جوانب مقلقة حيال مستقبل المنطقة، والإمارات على قناعة أن تفادي التصعيد وانتهاج المسار السياسي هو الطريق الوحيد لضمان أمن الخليج واستقراره، وتبقى خطوات بناء الثقة أساسية لتحقيق هذه الغاية.
— د. أنور قرقاش (@AnwarGargash) October 22, 2020
اهتمام الدول الكبرى بأمن الخليج العربي ضروري ومهم، ولكن لا يمكن النجاح في خلق منصات حوار تدعم هذه الأفكار دون معالجة الأعمال العدائية القائمة ومن ضمنها التهديد الصاروخي ودعم المليشيات، ونعود مجدداً إلى أهمية وأولوية مصطلح بناء الثقة لتخطو المنطقة الخطوة التالية.
— د. أنور قرقاش (@AnwarGargash) October 22, 2020
قرقاش کے مطابق بڑے ممالک کی جانب سے خلیج عربی کے امن پر توجہ دینا ضروری اہم اہم ہے۔ تاہم معاندانہ کارروائیوں کا علاج کیے بغیر ان افکار کو سپورٹ کرنے کے واسطے مکالمے کے پلیٹ فارمز تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ان معاندانہ کارروائیوں میں میزائلوں کا خطرہ اور (تہران نواز) ملیشیا کی سپورٹ شامل ہے۔