.

شام میں قتل عام کے لیے بچوں کو بھرتی کرنے والی تنظیم 'عطیہ خداوندی' قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبر انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای نے 'باسیج' ملیشیا کو ایرانی قوم کے لیے اللہ کی طرف سے 'خاص تحفہ' قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ ‌کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کی طرف سے'باسیج' ملیشیا کے لیے یہ الفاظ تنظیم کے یوم تاسیس کے موقع پر کہے۔ خیال رہے کہ باسیج ملیشیا پر شام میں قتل عام میں ملوث ہونے اور بچوں کو جنگ کےلیے بھرتی کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

باسیج ملیشیا کے یوم تاسیس پر خامنہ ای کی طرف سے جاری کردہ خصوصی پیغام بریگیڈیئر محمد شیرزای نے پڑھ کر سنایا۔ خامنہ ای جو ایران کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف بھی ہیں، نے باسیج ملیشیا کے یوم تاسیس کے موقعے پر کہا کہ باسیج ایک موبلائیزیشن فورس ہے جو ایرانی قوم کے لیے عطیہ خداوندی اور قوم کے لیے قیمتی خزانہ ہے۔

ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق خامنہ ای نے باسیج ملیشیا کو قیمتی خزانہ قرار دیا اورکہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ایرانی قوم کے لیے خزانہ ہے۔

خیال رہے کہ باسیج ملیشیا کا قیام سنہ 1979ء کو ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی کے حکم سے عمل میں لایا گیا تھا۔ ایرانی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ باسیج ملیشیا کو سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد اپوزیشن کو کچلنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ تنظیم ایرانی مذہبی رجیم کے ہاتھ میں اپوزیشن کو دبانے کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔

باسیج ملیشیا میں سول رضا کار، پاسداران انقلاب کے عناصر اور دیگر جنگجو گروپوں‌کے جنگو شامل ہیں اور یہ براہ راست سپریم لیڈر کے ماتحت کام کرتی ہے۔ نومبر 2015ء کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں اس کے رضا کاروں کی تعداد 90 ہزار سے زاید بتائی گئی تھی جو کہ اب ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ ایک نیم عسکری تنظیم ہے مگر اسے شام میں جنگ کے لیے بچوں کو بھرتی کرنے جیسے سنگین جرائم اور الزامات کا بھی سامنا ہے۔

سنہ 2009ء میں جب ایرانی اصلاح پسندوں‌ نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر صدر محمود احمدی نژاد کے خلاف تحریک شروع کی تو حکومت نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے باسیج ملیشیا کا استعمال کیا گیا تھا۔

سنہ 2011ء کو شام میں ایران نواز بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تو انہیں کچلنے کے کے لیے ایرانی کمانڈر محمد نجفی کی قیادت میں باسیج ملیشیا کے دستے شام میں بھیجے گئے۔ انہوں نے مظاہرین کے قتل اور انہیں گرفتار کرنے میں اسد رجیم کی وفادار فورسز کی مدد کی۔

سنہ 2018ء کو امریکی حکومت نے باسیج ملیشیا کو شام میں دہشت گردی کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے اور بشارالاسد کے وحشی نظام حکومت کی مدد کے الزام میں باسیج ملیشیا کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔