.

ایران میں اپوزیشن صحافی روح اللہ زم کی پھانسی پر فرانس کا سخت ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے اپوزیشن صحافی روح اللہ زم کو ہفتے کی صبح تختہ دار پر لٹکا دیا ہے۔ ایرانی حکام کا دعوی ہے کہ زم ملک میں عوامی احتجاجی مظاہروں میں ملوّث رہے تھے۔

پھانسی پانے والے صحافی کو گذشتہ برس پاسداران انقلاب نے گرفتار کیا تھا۔فرانس نے ان کی پھانسی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس کو سفاکانہ عمل قراردیا ہے۔پیرس میں قائم صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ’’صحافیان ماورائے سرحد نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو روح اللہ زم کی پھانسی کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

روح اللہ زم "آمد نيوز" کے نام سے پیغام رسانی کی ایپ ٹیلی گرام پر چینل چلاتے تھے۔ اس کے فالوورز کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے 2017ء میں حکومت مخالف عوامی احتجاجی مظاہروں میں لوگوں کو تشدد پر اکسایا تھا۔

ایرانی سپریم کورٹ نے 8 دسمبر کو روح اللہ زم کی سزائے موت کی توثیق کی تھی اور ماتحت انقلابی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

روح اللہ زم ایک اہم اصلاح پسند شخصیت کے بیٹے تھے۔ انھوں نے ایران سے فرار ہو کر فرانس میں پناہ لے لی تھی۔ اکتوبر 2019ء میں ایرانی پاسدران انقلاب نے انھیں دھوکا دہی سے ایک پیچیدہ کارروائی کے ذریعے جال میں پھانس لیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ کارروائی کہاں انجام دی گئی تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق انھیں عراق سے گرفتار کیا گیا تھا اور پھر ایران منتقل کردیا گیا تھا۔

وہ عراق کے جنوبی شہر نجف میں مذہبی مرجع کی مقرب ایک مذہبی شخصیت کی دعوت پر آئے تھے۔ بعد ازاں کارروائی کر کے انھیں ایرانی اداروں کے حوالے کر دیا گیا۔

تہران میں رواں سال فروری میں بند کمرے کی عدالت میں روح اللہ زم کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ اس موقع پر عدالت میں ذرائع ابلاغ کے نمایندوں کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔