.

اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل ، دو سالوں میں چوتھے انتخابات کی کال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل آئندہ سال مارچ میں قبل از وقت انتخابات کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت منگل کے روز حتمی تاریخ گزر جانے کے باوجود ملکی بجٹ کی منظوری میں ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا گیا۔

دو سال کے اندر اسرائیل میں چوتھی انتخابی مہم شروع ہونے جا رہی ہے۔ ادھر وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو عوام کے غصے کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ کرونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے لیے نیتن یاہو کی پالیسی اور عدلیہ میں ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ہیں۔

نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ میں سب زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے والے وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ اس بار انہیں دائیں بازو کے ایک نئے حریف جدعون ساعر کا سامنا ہے۔ وہ لیکوڈ پارٹی سے منحرف ہونے والی شخصیت ہیں جس کے سربراہ نیتن یاہو ہیں۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری سروے کے مطابق ساعر کی عوامی مقبولیت نیتین یاہو کے جیسی ہے۔

نیتن یاہو اور بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے سربراہ بینی گینٹز نے رواں سال مئی میں یک جہتی کی حکومت تشکیل دی تھی۔ اس سے قبل اپریل 2019ء کے بعد سے ملک میں تین انتخابات غیر فیصلہ کن ثابت ہوئے تھے۔ بینی گینٹز اس وقت اسرائیلی وزیر دفاع بھی ہیں۔

البتہ دونوں رہ نما بجٹ کی منظوری کے حوالے سے اختلاف کے باعث بند گلی میں پہنچ گئے۔ یہ اس معاہدے پر عمل درامد کے لیے ایک ضروری اقدام ہے جس کے تحت بینی گینٹز کو نومبر 2021ء میں اقتدار حوالے کیا جانا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے منگل کی رات ایک اجلاس میں پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی جانب سے بجٹ کی منظوری میں ناکامی کے پیش نظر قبل از وقت انتخابات کا آپشن خود ہی نافذ ہو گیا ہے۔