.

سعودی عرب: بدعنوانی کے مقدمات میں سرکاری عہدے داران اور افسران زیر حراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں "کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی" (نزاہہ) نے جمعات کے روز ایک اعلان میں بتایا کہ حالیہ عرصے کے دوران بدعنوانی سے متعلق مقدمات میں ملوث ایک سابق مختار وزیر، افسران اور ذمے داران کو حراست میں لیا گیا۔ ان مقدمات کا تعلق دھوکہ دہی، جعل سازی، رشوت اور مالی خرد برد سے ہے۔

نزاہہ کے ایک عہدے دار نے بیان میں بتایا کہ اتھارٹی نے مذکورہ عرصے میں متعدد فوجداری مقدمات شروع کیے اور ملوث افراد کے خلاف ضابطے کے اقدامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں 12 مقدمات کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ مقدمات میں ملوث جن افراد کو حراست میں لیا گیا ان میں سابق فوجی افسران، وزارت داخلہ کا سابق مشیر، کاروباری شخصیات، عرب شہریت رکھنے والے غیر ملکی، مقامی سعودی شہری، سعودی ہلال احمر میں مالیاتی اور انتظامی امور کا سابق ڈائریکٹر جنرل، ایک سابق مختار وزیر، ایک سابق سفیر، وزارت خارجہ کے دو ملازمین، جنرل اتھارٹی آف زکات اینڈ ٹیکس کا ایک ملازم، ایگزیکیوشن کورٹ کا ایک ملازم، ایک سرکاری یونیورسٹی ملازمین، ایک ضلعی میونسپل سربراہ، ڈائریکٹریٹ آف پاسپورٹس اور ڈائریکٹریٹ آف نارکوٹکس کے دو نان کمیشنڈ افسران، سعودی بحریہ کے دو افسران اور نیشنل اینٹی نارکوٹکس کمیٹی کا سابق سکریٹری جنرل شامل ہے۔

نزاہہ اتھارٹی نے باور کرایا ہے کہ وہ سرکاری مال یا منصب کو ناجائز طور پر اپنے مفاد میں استعمال کرنے والے ہر شخص کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا سلسلہ جاری رکھے گی خواہ یہ افراد ملازمت میں موجود ہوں یا سبک دوش ہو چکے ہوں۔

نزاہہ کمیٹی نے مالی اور انتظامی بدعنوانی کے انسداد کے سلسلے میں حکومتی اداروں کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

کمیٹی نے مختص ٹیلی فون نمبر (980) پر بدعنوانی سے متعلق سرگرمیوں کی اطلاع دینے کے حوالے سے سعودی شہریوں اور مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کا شکریہ ادا کیا۔ کمیٹی نے بدعنوانی کے خلاف مہم کی غیر محدود سپورٹ پر خادم حرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔