.

شام میں 5 لاکھ اموات کا ذمہ دار ایران ہے: فائزہ ہاشمی رفسنجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق اصلاح پسند صدر مرحوم علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی صاحب زادی فائزہ ہاشمی رفسنجانی نے شام میں ایران کی مداخلت پر اپنی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام میں پانچ لاکھ افراد کی اموات کا ذمہ دار ایران ہے۔ ایران کی شام میں مداخلت کی وجہ سے 5 لاکھ افراد موت کے گھاٹ اتارے گئے۔

ایران کی 'فارسی' نیوز ویب سائٹ' انصاف نیوز' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فائزہ ہاشمی نے کہا کہ میرے والد نے پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو بار بار مشورہ دیا تھا کہ وہ شام میں مداخلت نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے شروع دن سے ایرانی حکومت سے کہا تھا کہ وہ شام کے بحران میں مداخلت نہ کرے ورنہ وہاں‌ پر بہت زیادہ خون خرابہ ہوگا۔ ان کی بات نہیں مانی گئی۔ رفسنجانی نے جس خدشے کا اظہار کیا تھا وہی ہوا اور شام میں ایران کی مداخلت کی وجہ سے پانچ لاکھ افراد کی اموات ہوئیں۔

فائزہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ شام میں مداخلت سے قبل کمانڈر سلیمانی میرے والد کے پاس آئے اور شام میں ایرانی مداخلت کے بارے میں مشورہ مانگا۔ میرے والد نے انہیں کہا کہ وہ شام میں نہ جائیں۔ انہیں نے قاسم سلیمانی کو درست مشورہ دیا تھا مگر ان کی بات نہیں مانی گئی۔

فائزہ ہاشمی نے حکومت کی "مزاحمتی" پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے استفسار کیا کہ سلیمانی کے اقدامات اور ہماری مزاحمتی پالیسی نے کیا نتیجہ برآمد کیا؟ معیشت ، آزادی، اور خارجہ پالیسی کے شعبوں میں آپ نے ہمارے لیے کیا حاصل کیا؟ "مزاحمت کی پالیسی نے ہمارے لیے فخر کرنے کی کوئی چیز نہیں چھوڑی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں ایران کی پالیسی ہمارے دوستوں دشمنوں میں بدل دیا۔ ہماری خارجہ پالیسی داخلہ پالیسی کی طرح ہوگئی ہے جہاں حامی ناقدین اور پھر نقاد مخالفین میں بدلتے جا رہے ہیں۔

اپنے والد سے منسوب ایک آڈیو ریکارڈنگ جس میں انہوں‌نے کیمیائی حملے پر شامی صدر بشارالاسد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ "اس شخص کو اپنے لوگوں پر بھی رحم نہیں آیا " پر تبصرہ کرتے ہوئے فائزہ ہاشمی نے وضاحت کی' یہ آڈیو ریکارڈنگ درست ہے یا نہیں مگر اصول صحیح ہے۔ بشار الاسد کو ہماری طرف سے ملنے والی مدد کے نتیجے میں 5 لاکھ لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔

سابق ایرانی صدر کی بیٹی نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ایران کی پالیسی دوہرے معیارپر مبنی ہے۔ اگر مسلمانوں کو قتل کرنا ایک بری بات ہے تو پھر ہمیں روس اور چین کے ساتھ مسئلہ کیوں نہیں ہے جو ایغوروں کا قتل عام کرتا ہے۔