.

سعودی عرب میں فلکیاتی مظاہر کے ظہورسے متعلق ماہرین فلکیات کیا کہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر فروری کے اوائل میں طویل عرصے بعد ظہور پذیر ہونے والے فلکیاتی مظاہر کے بارے ماہرین فلکیات اور سائنسدانوں نے ان افواہیں کو رد کردیا ہے۔

سعودی عرب کی فلکیاتی کونسل کے رکن ڈاکٹر خالد الزعاق نے ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر فروری کے ابتدائی ایام میں جس فلکلیاتی مظہر کے ظہور پذیر ہونے کی باتیں کی جا رہی ہیں سائنس میں اس کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر 'ظاہرہ رباعیات' کے عنوان سے ایک نئے فلکلیاتی مظہر کے سامنے آنے کی بحث جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اس بحث میں کہا جا رہا ہے کہ فروری میں سامنے آنے والا فلکیاتی مظہر 823 سال کے بعد سامنے آتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر خالد الزعاق کا کہنا ہے کہ اس طرح کی باتوں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں۔

اسی بحث میں حصہ لیتے ہوئے ماہر موسمیات ڈاکٹر عبداللہ المسند نے 'ٹویٹر' پر لکھا کہ سعودی عرب میں آنے والے دنوں میں موسم معتدل رہے گا۔ آئندہ جمعرات تک درجہ حرارت میں بہ تدریج اضافہ ہوگا۔ آئندہ جمعہ کو موسم معتدل رہے گا۔

سعودی عرب کی موسمیاتی کمیٹی کے رکن عبدالعزیز الحصینی کہا کہ بُدھ سے ملک کے بعض علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش سے قبل درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے بعد درجہ حرارت میں کمی آئےگی۔ شمالی علاقوں، تبوک، الجوف، حائل، مدینہ منورہ، مکہ معظمہ، القصیم، الریاض، مشرقی گورنری۔ الباحہ۔ عسیر اور جازاں میں بہ تدریج موسم میں درجہ حرارت میں اضافے کے بعد کمی آئے گی۔