.

ایران میں جوہری ٹھکانوں پر حملوں کے منصوبے کی تجدید کی ہے: اسرائيل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے باور کرایا ہے کہ اسرائیلی فوج ایران کے جوہری ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے منصوبے کی تجدید کر رہی ہے اور فوج خود مختار صورت میں کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

گینٹز نے یہ بات جمعے کے روز امریکی چینل "فوکس نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق ان کے ملک نے ایران کے اندر کئی اہداف کا تعین کر لیا ہے جن کو نشانہ بنانے کا مقصد جوہری بم کی تیاری کے حوالے سے تہران کی صلاحیت کو نقصان پہنچانا ہے۔

گینٹز کا مزید کہنا تھا کہ "اگر دنیا انہیں (ایرانیوں کو) جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک لیتی ہے تو یہ بہت اچھا اقدام ہو گا ... تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ہمیں خود مختار صورت میں کھڑا ہونا چاہیے اور ہم خود سے اپنا دفاع کریں گے"۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیر دفاع نے باور کرایا کہ "ایران نواز لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے پاس لاکھوں میزائل ہیں"۔

گینٹز نے ایک نقشہ پیش کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ان ٹھکانوں کا ہے جہاں میزائل رکھے گئے ہیں۔ یہ مقامات اسرائیلی لبنانی سرحد پر شہری علاقوں کے بیچ واقع ہیں۔ گینٹز کے مطابق مذکورہ ٹھکانوں میں سے ہر ایک کو عملی اور انٹیلی جنس بنیاد پر جانچ لیا گیا ہے اور اسرائیلی فوج لڑائی کے لیے تیار ہے۔

شام میں ایرانی اہداف پر حملوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع نے غالب گمان ظاہر کیا کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ 2020ء کے آغاز کے بعد سے اسرائیل نے شام میں ایران کے ساتھ مربوط 500 سے زیادہ ٹھکانوں پر فضائی بم باری کی ہے۔ اس بات کا اعلان اسرائیلی چیف آف اسٹاف افیف کوخافی نے کیا تھا۔