.

شام میں ایرانی ملیشیاؤں کو اسلحہ سبزیوں اور پھلوں کی پیٹیوں میں پہنچ رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں دریائے فرات کے مغرب میں واقع علاقوں میں ایران کی ہمنوا ملیشیائیں اپنے اثر و نفوذ کو پھیلانے کے لیے ابھی تک عراق کے ساتھ غیر قانونی سرحدی راستوں کے ذریعے اسلحہ لا رہی ہیں۔

گذشتہ روز پیر کی صبح پھلوں اور سبزیوں کے لیے مخصوص 3 ٹرکوں میں اسلحے کی کھیپ دیر الزور کے دیہی علاقے میں المیادین پہنچی۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق یہ کھیپ عراقی سرزمین سے آئی۔ ملیشیاؤں کے عناصر نے اس اسلحے کو اتار کر ان سرنگوں میں منتقل کر دیا جن کو ماضی میں داعش تنظیم استعمال کرتی تھی۔

مذکورہ ملیشیاؤں کی جانب سے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے ان نوجوانوں کو درپیش سنگین معاشی حالات سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ المرصد کے مطابق دریائے فرات کے مغرب میں واقع علاقے میں ایران کی ہمنوا ملیشیاؤں کے واسطے بھرتی کیے جانے والے افراد کی تعداد 9850 ہو چکی ہے۔

یہ ملیشیائیں شام عراق سرحد کے نزدیک البوکمال کے علاقے سے لے کر المیادین اور دیر الزور شہروں سمیت التبنی کے علاقے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ حمص صوبے کے بعض علاقے بھی ان کے کنٹرول میں ہیں۔