.

مسجداقصیٰ میں اسرائیلی پولیس کا فلسطینیوں پر تشدد؛امریکا کاکشیدگی کے خاتمے پرزور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اسرائیل کے مقبوضہ مشرقی القدس میں واقع مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں پر صہیونی پولیس کی فائرنگ کے واقعات کے بعد کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت پر زوردیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ فلسطینی خاندانوں کی ان کے مکانوں سے بزور طاقت بے دخلی سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈپرائس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’امریکا کو یروشلیم میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش لاحق ہے۔اس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’تشدد کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا لیکن رمضان کے آخری ایام میں اس طرح کی خون ریزی بہت ہی پریشان کن ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اسرائیلی اور فلسطینی حکام پر کشیدگی اور تشدد کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن انداز میں اقدام کرنے پر زوردے رہا ہے۔ترجمان نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے صورت حال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔

انھوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’مشرقی یروشلیم سے لوگوں کو زبردستی گھروں سے نکالنے ، یہود آبادکاری کی سرگرمی ، مکانوں کی مسماری اوردہشت گردی کی کارروائیوں سے گریز کیا جائے۔‘‘

محکمہ خارجہ نے قبل ازیں ایک اور بیان میں کہا تھا کہ امریکا کومشرقی القدس کے دوعلاقوں سلوان اور شیخ جراح سے فلسطینی خاندانوں کی جبری بے دخلی پر تشویش لاحق ہے۔ان دونوں علاقوں میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان گہری کشیدگی پائی جارہی ہے۔

بیان میں یہ نشان دہی کی گئی ہے کہ ان دونوں علاقوں سے جن فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کیا جارہا ہے، وہ تو صدیوں سے وہاں رہتے چلے آ رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے یہ دونوں بیان مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسلمانوں کے تیسرے مقدس مقام مسجد الاقصیٰ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پولیس کی کارروائی کے ردعمل میں جاری کیے ہیں۔جمعہ کو اسرائیلی پولیس نے فلسطینیوں پر ربر کی گولیاں چلائی تھیں جس کے نتیجے میں 170 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

گذشتہ روز ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے دو فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے شہید اور ایک کوزخمی کردیا تھا۔اسرائیلی پولیس نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان تینوں فلسطینیوں نے سکیورٹی فورسز کے ایک اڈے پر فائرنگ کی تھی۔