.

سعودی عرب : اپیل کورٹ کے منصوبے کے نئے مراحل کی تکمیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں وزارت انصاف نے اعلان کیا ہے کہ اپیل کورٹ کے مراحل کو فعال کرنے کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت منصوبے کے تینوں مراحل کو کامیابی کے ساتھ پورا کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اب اس میں تمام اپیل کورٹس کے تمام عدالتی اختیارات شامل ہو گئے ہیں۔ مزید یہ کہ ملک میں اپیل کورٹس کی جانب سے جاری یا توثیق کردہ فیصلوں پر سپریم کورٹ میں ویٹو کے ذریعے اعتراض فعال کیا جا سکے گا۔

اس بات کا اعلان وزارت انصاف کی جانب سے منعقد ایک قریب کے دوران میں کیا گیا۔ یہ پیش رفت سعودی عرب میں عدلیہ کے ارتقاء کے مراحل میں ایک تاریخی اور اہم مرحلے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ویژن 2030ء پروگرام کی روشنی میں مملکت میں عدلیہ کی ترقی کی سمت کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

اس سلسلے میں وزارت انصاف کے سرکاری ترجمان محمد المطلق نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس اہم پیش رفت کے نتیجے میں ملک میں مقدمات کے فیصلوں میں تیزی آئے گی۔ اسی طرح فیصلوں کے معیار کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔

وزارت عدل میں اپیل کمیٹی کے سربراہ محمد الزہرانی کے مطابق اپیل کے فعال ہونے کا مرحلہ پہلے درجے کی عدالت میں مقدمے کا فیصلہ اختتام پذیر ہونے کے بعد ہو گا۔ اسے دوسرے درجے میں پیش کیا جائے گا۔ یہ طریقہ کار دنیا کے بہت سے ممالک میں نافذ ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ نئے مراحل کے ساتھ اپیل کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تمام تقاضوں اور تنازع کے فریقین کے لیے شفافیت کو یقینی بنائے گا۔ اپیل کورٹ میں عدالتی دعوؤں کو باریک بینی کے ساتھ مکمل طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ کام تجربہ کار قاضی انجام دیں گے۔ اس طرح پہلے درجے کے قاضیوں کے تجربے کی ترقی پر بھی مثبت اثر مرتب ہو گا۔