.

اسرائیل اپنے بحری جہاز پر حملے میں ایران کا ہاتھ ہونے کی تصدیق کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزارت دفاع کے ذمے داران نے کل ہفتے کے روز بحرِ ہند میں اسرائیلی بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی کارروائی میں تہران کے ملوث ہونے کا اشارہ دیا ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق عسکری ذمے داران نے بتایا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا بحر ہند میں اسرائیلی کارگو جہاز کو ایرانی فورسز نے نشانہ بنایا۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے ذرائع نے واضح کیا کہ اس واقعے میں جہاز کے عملے کو کوئی ضرر نہیں پہنچا اور نہ بحری جہاز کو کوئی بڑا نقصان ہوا۔

اسرائیلی چینل نے اس سے پہلے بتایا تھا کہ ٹینڈال جہاز زوڈیاک میری ٹائم کمپنی کی ملکیت ہے۔

البحرية الإسرائيلية في ميناء أسدود تعترض سفينة ترفع علم النروج يوم 29 يوليو
البحرية الإسرائيلية في ميناء أسدود تعترض سفينة ترفع علم النروج يوم 29 يوليو

مذکورہ کمپنی کی ویب سائٹ نے واضح کیا ہے کہ کارکو جہاز لائبیریا کے پرچم کے تحت سفر کر رہا تھا۔ زوڈیاک میری ٹائم کے جہازوں کے بیڑے سے با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی نے کئی ماہ قبل یہ جہاز فروخت کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان گذشتہ مہینوں کے دوران میں سمندر کی گہرائیوں میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے الزامات کا علانیہ تبادلہ ہوا۔ یہ ملک کے اندر جوہری ٹھکانوں یا شام میں عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد فریقین کے بیچ جنگ کی ایک نئی صورت ہے۔

اس سے قبل مغربی رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے گذشتہ ڈھائی برس کے دوران میں کم از کم 12 آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ یہ آئل ٹینکر ایرانی تھے یا ایران کا تیل لے کر شام جا رہے تھے۔