.

یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے مساعی جاری رکھیں گے:شہزادہ فیصل بن فرحان

سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کے نئےایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ کے تقرر کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ کے نئے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گرنڈبرگ کےتقرر کا خیرمقدم کیا ہے۔سویڈن سے تعلق رکھنے والے سفارت کار کو گذشتہ روز یہ نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

سعودی وزیر نے ٹویٹر پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ مملکت یمن کے بحران کے سیاسی حل تک پہنچنے کی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی جس سے برادر یمنی عوام کے دکھوں کا خاتمہ ہو گا اور سلامتی ، استحکام اور خوشحالی کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے گا۔

جمعہ کے روز ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے سویڈن کے ہانس گرنڈبرگ کو یمن کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کیا۔ وہ برطانیہ کے مارٹن گریفیتھس کی جگہ لیں گے۔

چین کی جانب سے ان کی نامزدگی کی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے ان کے تقرر میں بھی تاخیرہوئی ہے۔

واضح رہے کہ کسی بھی عالمی ایلچی کے تقرر کے لیے سلامتی کونسل کے تمام پندرہ رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے۔سلامتی کونسل کے تمام ممالک نے اسی ہفتے سویڈش سفارت کار کو مارٹن گریفیتھس کی جگہ یمن میں خصوصی ایلچی مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔مارٹن گریفیتھس گذشتہ تین سال کے دوران میں یمن میں جاری بحران کے خاتمے کےلیے امن کوششوں میں مصالحت کار کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔

یہ اعلان اقوام متحدہ کے سابق ایلچی مارٹن گریفیتھس کے مشن کے خاتمے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آیا ہے۔ گریفیتھس کو اقوام متحدہ میں انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور مقرر کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کا چوتھا ایلچی

گرنڈبرگ 2011 کے بعد سے یمن کے لیے چوتھے ایلچی ہیں۔ وہ ستمبر 2019 سے یمن میں یورپی یونین کے سفیر رہے ہیں اور بین الاقوامی امور میں 20 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے 15 سال سے زیادہ عرصے تک مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے حل ، مذاکرات اور ثالثی کےلیے خدمات انجام دیں۔

ہانس گرونڈبرگ نے اس عرصے کے دوران میں اسٹاک ہوم میں سویڈش وزارت خارجہ میں خلیجی امور کے شعبے کی سربراہی بھی کی۔