.

مصراورترکی کے درمیان تعلقات رواں سال بحال ہوسکتے ہیں:وزیراعظم مدبولی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری وزیراعظم مصطفیٰ مدبولی نے کہا ہے کہ اگرترکی کے ساتھ تمام تصفیہ طلب امور طے پاجاتے ہیں تورواں سال ہی دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو سکتے ہیں۔

مصطفیٰ مدبولی نے جمعرات کو بلوم برگ سے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’مصرکے لیے ایک اہم مسئلہ لیبیا میں ترکی کی مداخلت بھی ہے- لیبیا میں قریباًایک دہائی سے جاری تنازع اب علاقائی حریفوں کے درمیان ’’گماشتہ جنگ‘‘ میں تبدیل ہوچکا ہے۔البتہ اب بیشتراختلافات تو طرابلس میں ایک اتحادی حکومت کے قیام کے ساتھ ختم ہوچکے ہیں۔اس کے نتیجے میں لیبیا کے مشرق اور مغرب میں قائم دومتوازی حکومتیں بھی ختم ہوچکی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’کسی بھی دوسرے ملک کو لیبیا کے داخلی امورمیں مداخلت کرنی چاہیے اورنہ اوپیک کے رکن اس ملک میں کسی بھی طرح فیصلہ سازی پراثرانداز ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ہمیں لیبیا کے مستقبل کا فیصلہ اس کے شہریوں پر چھوڑدینا چاہیے۔‘‘

مصراورترکی کے درمیان حالیہ مذاکرات پرتبصرہ کرتے ہوئے وزیراعظم مدبولی نے کہا کہ ’’گذشتہ چند ماہ کے دوران میں اس ضمن میں بہت پیش رفت ہوئی ہے لیکن بعض غیرمعمولی مسائل ابھی طے ہوناباقی ہیں۔‘‘

امریکا میں گذشتہ سال نومبرمیں منعقدہ صدارتی انتخابات میں جوبائیڈن کی جیت کے بعد سے خطے میں نئی صف بندی ہورہی ہے۔اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر مصر اور ترکی اپنے دوطرفہ تعلقات معمول پر لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ترکی نے سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات سے بھی دوبارہ سلسلہ جنبانی شروع کیاہے۔یہ دونوں ممالک خطے میں ترکی کے حمایت یافتہ گروہوں کے بارے میں مصرکےمؤقف کی تائید کرتےہیں۔

واضح رہے کہ ترکی اورمصر کے درمیان 2013ء میں الاخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمدمرسی کی حکومت کی معزولی کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ترک صدررجب طیب ایردوآن کی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (آق) مصرکی قدیم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کی اتحادی اور مددگاررہی ہے۔

مصری صدرعبدالفتاح السیسی کی حکومت نے الاخوان المسلمون کوصدرمرسی کی معزولی کے بعد دہشت گرد قراردے دیا تھا اوراس کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کردی تھی۔اس کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے سفیروں کو نکال دیا تھا اور ترک صدرایردوآن نے مصری ہم منصب السیسی کو ظالم قراردیا تھا۔

مصر کے ہمسائے میں واقع لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے ترکی کی حمایت پر یہ دراڑیں مزید گہری ہو گئی تھیں جبکہ مصر لیبیا کے مشرقی شہر بنغازی سے تعلق رکھنے والے جنرل خلیفہ حفتر کی حمایت کررہا تھا۔

لیبیا کو مزید متحدکرنے کی کوششیں اب 24 دسمبرکوعام انتخابات کے انعقاد پرمرکوز ہیں مگربہت سے تصفیہ طلب امورابھی باقی ہیں۔ان میں خانہ جنگی کا شکار ملک میں غیرملکی کرائے کے فوجیوں کی موجودگی اور مختلف ملیشیاؤں کوغیرمسلح کرنے ایسے مسائل شامل ہیں۔

مدبولی کا کہنا تھا کہ مصر لیبیا کے باشندوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں مدد دینے کے لیے کام کررہا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ مصر یورپی اور مغربی کمپنیوں کے ساتھ کروناوائرس کی ویکسین کی بڑی تعداد میں تیاری کے لیے ’انتہائی سنجیدہ مذاکرات‘کررہا ہے۔ یہ ویکسین مشرق اوسط اورافریقا کو برآمد کرنے کےلیے بنائی جائے گی۔مصر کو امید ہے کہ وہ سال کے اختتام سے قبل کسی ایک کمپنی کے ساتھ ویکسین کی تیاری کا معاہدہ طے کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔