.

خلیج کے ساتھ بحران کے جلومیں لبنانی وزیر خارجہ کی آڈیو لیک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیر اطلاعات جارج قرداحی کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلاف توہین آمیز بیانات کے پس منظر میں سعودی عرب اور تین خلیجی ممالک کی جانب سے لبنانی حکومت کے خلاف سفارتی اقدامات اٹھائے جانے کے چند دن بعد عکاز اخبار نے لبنانی وزیر خارجہ عبداللہ بو حبیب کی افشا ہونے والی ریکارڈنگ کا انکشاف کیا ہے۔

کل بدھ کو سامنے آنے والی اس آڈیو میں مملکت کی توہین کی گئی ہے۔ یہ آڈیو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب لبنان کے ساتھ جاری بحران ختم کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے میں سنجیدہ ہے جب کہ لبنانی حکومت بھی خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی بحران ختم کرنا چاہتی ہے۔

اس آڈیو میں لبنانی وزیر خارجہ بوحبیب کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے لبنانی ریاست کو کسی قسم کی کوئی امداد فراہم نہیں کی۔

انہوں نے لبنان کی طرف سے سعودی عرب کو منشیات بھیجنے کا یہ کہہ کر جواز بھی پیش کیا کہ اس کی وہاں مارکیٹ ہے۔ یہ ایک عجیب و غریب اعتراف ہے جو لبنان سے سعودی عرب کو منشیات کی اسمگلنگ کی لبنانی سفارت کاری کے سربراہ کی طرف سے سامنے آیا ہے۔

اس کے علاوہ، بوحبیب نے دعوی کیا کہ وہ سعودی عرب سے دشمنی نہیں رکھتے۔انہوں نے لبنان اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران سعودی سفیر سے رابطہ نہ ہونے کی مذمت کی۔

لیک ہونے والی ریکارڈنگ میں انہوں نے خلیجی ریاستوں پر قرداحی کے بیانات کے بعد آنے والے حالیہ بحران پر سمجھوتہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔

کل وزیر خارجہ نے ملک میں حزب اللہ کے کردار کو محدود کرنے میں اپنی حکومت کی نااہلی کا اعتراف کیا تھا ان کا کہنا تھا یہ ایک علاقائی مسئلہ ہے۔

دوسری جانب خلیجی اور لبنانی ذرائع ابلاغ نے گذشتہ چند دنوں کے دوران عندیہ دیا تھا کہ خلیجی ممالک لبنانی حکومت کے خلاف نئے اقدامات کر سکتے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے گذشتہ بیان میں متعدد اضافی اقدامات کیے جانے کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک لبنانی حکومت کے خلاف نئے اقدامات کر سکتے ہیں۔