.

البرھان کو بتا دیا کہ سعودی عرب سوڈانی قوم ملک کی وحدت کے ساتھ ہے: سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ کے ذرائع نے اعلان کیا کہ خرطوم میں سعودی عرب کے سفیر علی حسن بن جعفر نے سوڈانی فوج کے کمانڈر انچیف عبدالفتاح البرہان سے ملاقات کی اور اس ملاقات میں سوڈان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سوڈان میں جاری موجودہ سیاسی بحران اور اس سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقعے پرجنرل البرہان سے بات کرتے ہوئے سعودی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک سوڈان کی وحدت اور اس کے عوام کے ساتھ ہے۔

دوسری طرف البرہان نے ملک میں جمہوری تبدیلی کےعمل کو آگے بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلینکن اور سوڈان کی فوج کے سربراہ جنرل عبد الفتاح البرہان کے درمیان جمعرات کے روز ٹیلی فون پر رابطہ ہوا۔ دونوں شخصیات نے عبوری حکومت کی جلد تشکیل اور سوڈان میں اقتدارکی جمہوری منتقلی کی راہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ البرہان نے بلینکن کو باور کرایا کہ وہ جمہوری تبدیلی کے سلسلے اور عوامی انقلاب کی منفعتوں کے تحفظ پر کاربند ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ "ہم سعودی عرب، امارات اور برطانیہ کے ساتھ ہم آواز ہو کر سوڈانی عوام کی امنگوں کی حمایت کرتے ہیں"۔

بلنکن نے زور دیا کہ سوڈان میں شہریوں کے زیر قیادت حکومت اور عبوری اداروں کی فوری واپسی ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ سوڈان میں گذشتہ ہفتے سے سیاسی بحران دیکھا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال سابق صدر عمر البشیر کی معزولی کے بعد اقتدار سنبھالنے والے عسکری اور شہری حکام کے بیچ طویل اختلافات کے بعد سامنے آئی ہے۔

سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے 25 اکتوبر کو حکومت اور خود مختار کونسل تحلیل کر دی تھی۔ علاوہ ازیں آئین کی بعض شقوں پر عمل درامد معطل اور ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ اور متعدد مغربی ممالک نے جن میں امریکا سرفہرست ہے ان اقدامات پر تنقید کی تھی۔ ان اقدامات کے سبب سوڈان کو بین الاقوامی امداد روک دی گئی۔