.

دین ، طب اور تعلیم کے شعبوں میں مزید 27 شخصیات اور ماہرین کے لیے سعودی شہریت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کے روز شاہی فرمان کے ذریعے منظوری کے بعد مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کو سعودی شہریت دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس حوالے سے 27 نئے ناموں کی فہرست سامنے آئی ہے۔ فہرست میں دین، طب اور تعلیم کے شعبوں میں نمایاں کاوشیں انجام دینے والے افراد شامل ہیں۔

مصطفى تسيرچ

رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کے رکن ہیں۔ وہ بوسنیا ہرزگوینیا میں علماء کمیٹی کے صدر اور مفتی اعظم کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔

مصطفی تشیرچ
مصطفی تشیرچ

اسلامی فکر کے شعبے میں شہرت کے حامل ہیں۔

حسين الداؤدی

رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کے رکن ہیں۔ وہ اس وقت اسکنڈینویئن کونسل برائے تعلقات کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ بین المذاہب رابطے استوار کرنے میں خصوصی دل چسپی رکھتے ہیں۔

محمد نمر السماک

رابطہ عالم سلامی کی سپریم کونسل کے رکن ہیں۔ اسلامی مسیحی کمیٹی برائے مکالمہ کے سکریٹری جنرل ہیں۔ سیاسی اور ثقافتی موضوعات پر ممتاز مصنف کے طور پر معروف ہیں۔

عبدالله صالح عبدالله

عراق سے تعلق رکھنے والی نمایاں علمی شخصیت ہیں۔ تاریخی کتابوں بالخصوص سعودی عرب اور خلیج کی تاریخ کے حوالے سے شان دار تحقیق پیش کر چکے ہیں۔

رضوان نائف السيد

رابطہ عالم اسلامی کی سپریم کونسل کے رکن ہیں۔ اسلامی فکر کے مطالعے کے محقق ہیں۔

رضوان نائف السید
رضوان نائف السید

اسلامی مطالعے کے شعبے میں شاہ فیصل ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔

محمد الحسينی

لبنان میں عرب اسلامی کونسل کے سکریٹری جنرل ہیں۔ اسلامی دنیا اور اس کے باہر بالخصوص یورپ میں ذرائع ابلاغ میں کثرت سے نظر آنے والے شیعہ عالم ہیں۔

محمد الحسینی
محمد الحسینی

مذہبی اعتدال کی حمایت کرنے والی شخصیات میں سے ہیں۔

عماد محمد تليجہ

طب کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور امراض معدہ کے ماہر ہیں۔ امریکا اور برطانیہ سے متعدد سرٹفکیٹس حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی 87 سے زیادہ تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ طب کے شعبے میں متعدد ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔

فاروق عويضہ

طب کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہارٹ سرجری کے ماہر ہیں۔ یورپی سے کئی سرٹفکیٹس حاصل کر چکے ہیں۔

فاروق عویضہ
فاروق عویضہ

5 ہزار سے زیادہ اوپن ہارٹ سرجریاں انجام دے چکے ہیں۔ ان کی 20 سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔

عماد الدين ناجح عزت كنعان

طب کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال میں اعصابی امراض کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ عالمی سطح پر مشہور ترین نیورو سرجنوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کی 115 سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں اور 230 علمی لیکچر دے چکے ہیں۔ کئی سعودی ڈاکٹروں کو تربیت دے چکے ہیں۔

خالد حموی

طب کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور پیٹ اور گردے کے امراض کے ماہر ہیں۔ جرمنی سے اپنے شعبے میں سرٹفکیٹ حاصل کر چکے ہیں۔

خالد حموی
خالد حموی

امریکی فیلو شپ کے بھی حامل ہیں۔ کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال میں گردے کی پیوند کاری کے شعبے کے نائب سربراہ رہ چکے ہیں۔ ان کی 20 علمی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔

محمد غياث جميل

طب کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور انتہائی نگہداشت کے ماہر ہیں۔ امریکا سے اپنے شعبے کے سرٹفکیٹ حاصل کر چکے ہیں۔ کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال میں اہم ذمے داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔

وليد خالد رشيد

طب کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور خون کے امراض اور خلیوں کی پیوند کاری کے ماہر ہیں۔ کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال میں کام کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا سے متعلقہ سرٹفکیٹس حاصل کر چکے ہیں۔

ولید خالد رشید
ولید خالد رشید

ان کی 32 سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ 8 برس آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ہسپتالوں اور طبی مراکز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

مصطفى عبدالله صالح

طب کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور اب تک ان کے 235 سائنسی مقالے شائع ہو چکے ہیں۔ بچوں کی صحت کے ماہر ہیں۔ سویڈن اور سوڈان سے طب کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔

انصر مراح

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ مٹیریل انجینئرنگ کے شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کی 90 سے زیادہ سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ عالمی کانفرنسوں میں 50 سے زیادہ مقالے پڑھ چکے ہیں۔ ان کی 11 رجسٹرڈ ایجادات ہیں۔

محمد عبدالعزيز مصطفى حبيب

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ تھرمل ڈائنامکس کے شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کی 200 سے زیادہ سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ عالمی کانفرنسوں میں 50 سے زیادہ مقالے پڑھ چکے ہیں۔ ان کی 24 رجسٹرڈ ایجادات ہیں۔

بيكر يلباس

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ مٹیریل انجینئرنگ کے شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کی 400 سے زیادہ سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ 13 سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی 26 رجسٹرڈ ایجادات ہیں۔

محمد عبدالكريم عنتر

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ واٹر ڈی سیلینیشن ٹکنالوجی کے ماہر ہیں۔ ان کی 70 سے زیادہ سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ عالمی کانفرنسوں میں 40 سے زیادہ مقالے پڑھ چکے ہیں۔ ان کی 8 رجسٹرڈ ایجادات ہیں۔

توفيق عبده صالح عوض

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ کیمیاء کے شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کی 340 سے زیادہ سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ عالمی کانفرنسوں میں 30 سے زیادہ مقالے پڑھ چکے ہیں۔

علی حسين مقيبيل

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ ٹیلی کمیونی کیشن ٹکنالوجی کے شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کی 40 سے زیادہ سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ عالمی کانفرنسوں میں 70 سے زیادہ مقالے پڑھ چکے ہیں۔ ان کی کئی رجسٹرڈ ایجادات ہیں۔

عز الدين زرقين

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کی 80 سے زیادہ سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ عالمی کانفرنسوں میں 130 سے زیادہ مقالے پڑھ چکے ہیں۔ ان کی 18 رجسٹرڈ ایجادات ہیں۔

سمير مكيد

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ ماڈرن مینوفیکچرنگ کے شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کی 70 سے زیادہ سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ عالمی کانفرنسوں میں 100 سے زیادہ مقالے پڑھ چکے ہیں۔ ان کی 20 رجسٹرڈ ایجادات ہیں۔

ايمن حلمی الملح

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ کمپیوٹر انجینئرنگ کے شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کی 40 سے زیادہ سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ عالمی کانفرنسوں میں 50 سے زیادہ مقالے پڑھ چکے ہیں۔ ان کی 7 رجسٹرڈ ایجادات ہیں۔

بسام العلی

کنگ فہد یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز میں پروفیسر کے عہدے کے ساتھ ایک فیکلٹی ممبر ہونے کے ساتھ ساتھ کیمسٹری کے شعبے میں بھی مہارت رکھتے ہیں، صنعتی کیمسٹری اور یکساں اور متضاد عوامل کے شعبے میں ان کے 90 سے زیادہ شائع شدہ تحقیقی مقالے اور 15 تحقیقی مقالے موجود ہیں۔ بسام العلی نے بین الاقوامی کانفرنسوں کے علاوہ 12 رجسٹرڈ پیٹنٹ اور انہوں نے کئی ایوارڈز جیتے ہیں۔

الهادی محمد عقون

امریکا میں واشنگٹن یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ امریکا اور اس کے بیرون متعدد جامعات میں ڈاکٹریٹ کے طلبہ کو تربیت فراہم کی۔ وہ امریکا میں Professor of the Year Award سمیت کئی ایوارڈز اور اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے کئی تحقیقی مقالاتIEEE جریدے میں شائع ہو چکے ہیں۔ سائنس کے شعبے میں 36 تحقیقات منظر عام پر آئیں اور عالمی کانفرنسوں میں 37 مقالے پڑھے۔

صلاح الدين محمود احمد الكتاتنی

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ پٹرولیم انجینئرنگ کے شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کی 77 سے زیادہ سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ عالمی کانفرنسوں میں 100 سے زیادہ مقالے پڑھ چکے ہیں۔ ان کی 23 رجسٹرڈ ایجادات ہیں۔

محمد احمد نصر الدين محمود

تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں اور کنگ فہد پٹرولیم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ پٹرولیم انجینئرنگ کے شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کی 130 سے زیادہ سائنسی تحقیقات شائع ہو چکی ہیں۔ عالمی کانفرنسوں میں 170 سے زیادہ مقالے پڑھ چکے ہیں۔ ان کی 60 رجسٹرڈ ایجادات ہیں۔

موسى قاری سيد

سعودی کی پیدائش ہے۔ انہوں نے امریکا سے نیوکلیئر میڈیسن میں گریجویشن، کیمیکل ریڈیئشین میں ماسٹرز اور ایکس رے سائنسز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اس وقت کیلیفورنیا یونیورسٹی میں ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اسی یونیورسٹی میں متعدد اہم منصبوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ سرطان کے مرض سے متعلق خصوصی تحقیق کے حامل ہیں۔ انہیں سینئر سائنس دانوں کا وولبرائٹ امریکی سرٹفکیٹ بھی مل چکا ہے۔ یہ چھوٹا نوبل انعام شمار کیا جاتا ہے۔ جرمنی ، ملائیشیا، جاپان ، سعودی عرب اور کویت کی جامعات میں بطور مشیر کام کر چکے ہیں۔ انہیں 187 سے زیادہ سائنسی کانفرنسوں میں بطور مقرر دعوت دی گئی۔