برسوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان سائبر جنگ کے حوالے سے دونوں ممالک ایک دوسرے پرالزامات کا تبادلہ کرتے رہے ہیں۔ ان کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں دونوں فریقوں کے درمیان خفیہ یا پوشیدہ جنگ صرف زمینی، سمندر اور ہوائی تک محدود نہیں تھی بلکہ اس سے آگے بڑھ کر سائبر وار کے میدان میں پہنچ چکی ہے۔
اسرائیل کے انٹرنیٹ ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ یگال اونا نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران اسرائیل میں سائبر حملوں کی کوششوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز اور اسرائیل سیکیورٹی ایجنسی کے ایلیٹ 8200 الیکٹرانک یونٹ کے تجربہ کار یونا نے ’سی این این‘ سےبات کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ صرف روزانہ کے حملے نہیں تھے بلکہ ہر گھنٹے یا منٹ کے حساب سے کیے جاتے تھے۔
ایران نے آبی نظام کو نشانہ بنایا
انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ دنیا میں ہر جگہ سے حملے آئے۔ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران پہلے بھی زیادہ حملے کیے گئے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ دنیا پاگل ہوگئی ہے۔
اونا نے کہا کہ زیادہ تر (حملے) مجرمانہ عناصر اور افراد کی طرف سے ہوتے ہیں جو یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا کوئی مجرمانہ امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے پانی کے نظام پر اپریل 2020 کے سائبر حملے میں پینے کے پانی میں کلورین جیسے کیمیکلز کی غلط سطح شامل ہو سکتی ہے اور اسرائیلی حکام نے عوامی طور پر اس حملے کی ذمہ داری ایران پر ڈالی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر حملہ کامیاب ہوتا تو اس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو سکتی تھیں۔ سائبرجنگ بموں اور میزائلوں کی طرح تباہ کن ہو سکتی ہے۔
-
ایران کی دوسری بڑی فضائی کمپنی ماہان ایئر کے کمپیوٹر نظام پرنیاسائبرحملہ
ایران کی دوسری بڑی فضائی کمپنی ماہان ایئرنے اتوار کے روز اطلاع دی ہےکہ اس کو ایک ...
بين الاقوامى -
تہران میٹرو ٹرین کے نظام میں فنی تعطل، نئے سائبر حملے کا شبہ
ایرانی میڈیا کے مطابق آج ہفتے کی صبح تہران کے میٹرو ٹرین نیٹ ورک میں فنی خلل پیدا ...
مشرق وسطی -
پٹرول اسٹیشنوں پر سائبر حملے کے پیچھے اسرائیل اور امریکا ہو سکتے ہیں: ایران
ایران میں شہری دفاع کے کمانڈر غلام رضا جلالی نے الزام عائد کیا ہے کہ اُس سائبر ...
مشرق وسطی