سعودی عرب: انسداد بدعنوانی کمیشن کے تحت متعدد فوج داری کیسز کی تحقیقات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کمیشن کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ اتھارٹی نے گذشتہ عرصے کے دوران متعدد فوجداری مقدمات کی تحقیقات شروع کی ہیں اور ان کیسز میں ملوث ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔

پہلا کیس:

وزارت داخلہ کے تعاون سے ایک علاقے میں فوجداری تفتیشی پولیس کے 3 ملازمین اور ایک شہری کو دو عرب شہریوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے49 لاکھ ریال کی رقم ضبط کی گئی ہے۔ ملزمان کو رہا کردیا گیا ہے تاہم ان کے خلاف ان کی رہائش گاہوں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ان کے گھروں اور گاڑیوں کی تلاشی کے دوران مزید 34 لاکھ 43 ہزار سات سو پانچ ریال رقم قبضے میں لی گئی۔ خبر رساں ادارے ’ایس پی اے‘ کے مطابق اس کیس میں دو مزید مقامی ملزمان کو گرفتار کیا ہے جو اس رقم کے حصول کا ذریعہ ثابت نہیں کرسکے۔

دوسرا کیس:

ایک شہری نے اتھارٹی کو رپورٹ پیش کی کہ ایک گورنری میں انسداد منشیات کے محکمے میں کام کرنے والے ایک نان کمیشنڈ افسر نے منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کرنے کے بدلے 10 لاکھ ریال کی درخواست کی۔ اس نے رقم پر بات چیت کرتے ہوئے (نان کمیشنڈ افسر) کو گولڈ بار حاصل کرتے ہی گرفتار کر لیا۔ اس کی تفتیش کے دوران اطلاع دینے والے کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا اور اس نے قائل کرنے کے مقصد سے غلط خطوط میں ترمیم کی تھی۔ اس نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ شہری کا ڈیٹا ترکی میں مقیم شامی شہریت کے حامل شخص سے حاصل کیا گیا تھا اور وزارت داخلہ اور سعودی مرکزی بینک کے تعاون سے تحقیق اور تفتیش کے طریقہ کار کو انجام دینے کے بعد ملزم کے اس کیس میں ملوث ہونے کے ثبوت ملے اور اسے گرفتار کرلیا گیا۔ اس نے بینک کھاتوں میں خطیر رقم جمع کرکے مملکت سے باہر منتقل کرنے اور منی لانڈرنگ کے لیے گروہ کی تشکیل دیا اور مجموعی طورپر 180,000,000 ریال رقم بیرون ملک غیرقانونی طریقے سے منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔

تیسرا کیس:

تیسرے کیس میں ایک سپروائزر کو اینٹی کمرشل فراڈ ڈپارٹمنٹ میں معطل کر دیا گیا۔ یہ معطلی اس وقت کی گئی جب وزارت تجارت کی کمیٹیوں میں سے ایک خطے میں اس کے بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کی دولت میں اس کی آمدنی سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ کیونکہ اس کی کل رقم (3,980,000) تین ملین نو لاکھ اسی ہزار ریال تھی

چوتھا کیس:

چوتھے کیس میں ایک ریجن کے محکمہ تعلیم میں بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کو معطل کرکے انتظامیہ کے دو ملازمین، چار کاروباری افراد جو وزارت کے ساتھ کنٹریکٹ والے تجارتی اداروں کے مالک ہیں اور ایک ہی اداروں میں کام کرنے والے دو مقامی افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ڈائریکٹر پر1,120,000 ریال کی رقم قسطوں میں حاصل کرنے کے عوض وزارت تجارت میں ٹھیکے فراہم کرنے کا الزام عاید کیا گیا۔

پانچواں کیس:

پانچویں مقدمہ میں کسی ایک علاقے میں کمرشل کورٹ کے جج کی فلیگرینٹ ڈیلیکٹو میں گرفتاری عمل میں آئی۔ جج پر ایک کیس میں مقدمہ کے ایک فریق سے فیصلہ اس کے حق میں کرنے کے بدلے300,000 ریال کی رقم حاصل کی تھی۔

چھٹا کیس:

چھٹے کیس میں وزارت دفاع کے تعاون سے محکمے میں کام کرنے والے ایک نان کمیشنڈ افسر کو اس کے کام پر موجود ساتھیوں سے قسطوں میں (125,000) ایک لاکھ پچیس ہزار ریال کی رقم حاصل کرنے پر معطل کر دیا گیا۔

ساتواں کیس:

ساتویں مقدمہ میں وزارت داخلہ اور ریاستی سلامتی کے حکام کے تعاون سےعلاقے میں سے ایک کی پولیس میں کام کرنے والے لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے کے ایک افسر کو ایک ملزم کی گرفتاری کے دوران اس کا قبضے میں لیا موبائل فون اور دیگر اشیا واپس نہ کرنے کے الزام عاید کیا گیا۔

آٹھواں کیس:

آٹھویں کیس میں کمرشل عدالت میں کام کرنے والے ملازم کو معطل کیا گیا۔ اس کیس میں ملزمان نے عدالت میں زیر سماعت ایک کیس میں ایک فریق سے کیس اس کے حق میں کرانے اور اسے معلومات فراہم کرنے کے لیے اس سے ایک لاکھ چھہتر ہزار چار سو تینتیس ریال حاصل کرنے کا الزام ہے۔

نواں کیس:

نویں مقدمہ میں دو شہریوں کی گرفتاری اس لمحے عمل میں لائی گئی جب انہیں پچاس ہزار ریال میں سے 20,000 بیس ہزار ریال کی رقم ملی جو انسداد منشیات کے محکمہ کے ایک نان کمیشنڈ افسر کے حوالے کی گئی۔ یہ رقم منشیات کی تشہیر کرنے والے دو ملزمان کی رہائی کے لیے رشوت کے طور پر دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں