ایرانی پاسداران انقلاب کا عراق میں عین الاسد بیس کو نشانہ بنا نے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بدھ کو ایک ناکام ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی تنگسیری نے عراقی صوبے الانبار میں عین الاسد کے اڈے کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ خیال رہے کہ اس اڈے پر امریکی مشیر بھی موجود ہیں۔

انہوں نے ایک پریس انٹرویو میں مزید کہا کہ عین الاسد اڈے کو نشانہ بنانا "ہمارے ردعمل کے نمونوں میں سے ایک ہے"۔ساتھ ہی انہوں نے خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

عراقی سیکیورٹی میڈیا سیل نے واضح کیا تھا کہ فضائی دفاع نے ایک نامعلوم ڈرون کو روکا تھا جس نے کل شام الانبار میں عراقی فضائیہ کی کمان کے فضائی اڈے کے قریب جانے کی کوشش کی تھی۔ اس ڈرون طیارے کو "عین الاسد" بیس کے قریب سے مار گرایا گیا تھا۔

عین الاسد بیس کو گذشتہ دو دنوں کے دوران متعدد بار میزائل حملوں کے علاوہ نامعلوم ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

بین الاقوامی اتحاد کے ایک اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ پانچ میزائل بیس کے قریب گرے، جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

منگل کو عین الاسد کو دھماکہ خیز مواد سے لیس دو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جب کہ بغداد ایئرپورٹ پر ایک امریکی سفارتی مرکز کو بھی دو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔

تاہم اہلکار کے مطابق دونوں حملوں کو ناکام بنا دیا گیا، اور ان کے نتیجے میں جانی یا نقصان نہیں ہوا۔

یہ حملے دو سال قبل بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایرانی پاسداران انقلاب میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی اور عراقی پاپولر موبلائزیشن اتھارٹی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کے قتل کی دوسری برسی کے موقع پر ہوئے تھے۔

ایران اور اس کی وفادار عراقی ملیشیا نے طویل عرصے سے رہ نماؤں کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انتقامی کارروائیوں کے دوران ان پر عراق میں امریکی تنصیبات پر راکٹوں اور ڈرون طیاروں سے حملے کیے گئے۔

سال 2020 کے موسم گرما سے لے کر اب تک تقریباً 2500 امریکی فوجی اور ایک ہزار اتحادی افواج عراقی افواج کو مشورے اور تربیت فراہم کرنے کے لیے عراقی سرزمین پر موجود ہیں جب کہ 2014 میں عراق میں تعینات کیے گئے امریکی فوجیوں کی واپسی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے روڈ میپ پر کام شروع کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں