سعودی نوجوان پانچ دہائیوں سے عنیزہ کے ورثے کے پاسبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے صوبے قصیم میں مقامی نوجوانوں نے تقریبا پانچ دہائیاں قبل "عنیزہ مرکز برائے لوک ورثہ" قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد علاقے کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کا تحفظ اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنا تھا۔

قصیم صوبے میں عنیزہ کا علاقہ السامری رقص کے حوالے سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں عنیزہ مرکز کے رکن احمد القرعاوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "ہم عوامی فنون اور لوک ورثے سے متعلق سرگرمیاں انجام دینے اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کے شدید خواہاں ہیں۔ بالخصوص العرضہ کا فن (سعودی عرب کا خصوصی قومی رقص) جو سعودی ثقافت اور ورثے کی علامت ہے۔ اسی طرح عنیزہ کا خصوصی سامری رقص جو علاقے کے لوگوں کے حوالے سے لوک رنگ کا حامل ہے"۔

القرعاوی نے واضح کیا کہ اس فن کی ایسی خصوصیات ہیں جو اسے دنیا کے دیگر فنون سے امتیاز بخشتی ہیں۔ السامری میں شریک افراد دو صفوں میں تقسیم ہوتے ہیں اور اس سرگرمی میں سات کھیل شامل ہوتے ہیں۔ اس کی ابتدا گانے سے ہوتی ہے اور پھر شرکاء مختلف کھیل کھیلتے ہیں۔

القرعاوی کے مطابق سامری میں شریک افراد کو متحرک کرنے والا جذبہ یہ ہے کہ ثقافتی ورثے کے اس جزو کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اس لیے کہ یہ ایسی تاریخ ہے جس پر فخر کیا جانا چاہیے۔ عنیزہ مرکز کو ہر جمعے کی شب کھولا جاتا ہے تا کہ عوام کے سامنے علاقے کی گہری اور بھرپور ثقافت پیش کی جا سکے۔ یہاں ہر عمر کے افراد کے لیے دل چسپی کا سامان ہوتا ہے۔ مرکز کے ہال میں انفرادی تربیت اور مہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے ادھیڑ عمر افراد کو سامری کرتے ہوئے دیکھ کر نوجوان بہت کچھ سیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں