سعودی عرب میں آرٹ کے استاد کی حیثیت سے پیشہ ورانہ ذمے داریاں انجام دینے والے اسماعیل ہجلس نے ریٹائرمنٹ کے بعد مملکت میں 50 سے زیادہ شہروں اور قصبوں کا دورہ کیا۔ اس کا مقصد سنگ تراشی اور نقش و نگاری میں خصوصی مہارت کا حصول اور کتابت اور عربی رسم الخط کی تعلیم کے عمل کو نکھارنا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل نے قدیم زمانوں سے وابستہ تاریخی روایتی تعمیرات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ملکت کے مختلف علاقے بالخصوص قطیف میں تاریخی تعمیرات کی بہت سی تفصیلات اکٹھا ہیں۔ ان میں چونے کے پلاسٹر، لکڑی، دروازوں اور کھڑکیوں پر نقش و نگاری کے اعلی نمونے ملتے ہیں۔
اسماعیل کے مطابق انہوں نے مختلف علاقوں میں صرف تعمیرات کو دیکھ کر ٹھوس اور چھدے ہوئے پلاسٹر کی شیٹ تیار کرنا شروع کی۔ اس حوالے سے بالخصوص انہیں قطیف میں روایتی تعمیرات اور عمارتوں پر نقش و نگار سے بھرپور مدد ملی۔
بعد ازاں اسماعیل نے انٹرنیٹ پر سرچ انجنوں کے ذریعے اس فن کے متعلق تحقیقوں کا مطالعہ کیا۔ ان کے علاوہ ٹیلی وژن کی دستاویزی فلموں اور متعلقہ مستند کتابوں سے استفادہ کیا۔ مزید یہ کہ تعمیرات کے پیشے میں کام کرنے والے عمر رسیدہ افراد کے تجربات کی آگاہی حاصل کی۔ اسماعیل نے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنےو الے انجینئروں ، مؤرخین ، محققین اور ادیبوں سے رابطے کیے۔ اس سلسلے میں اسماعیل نے جن علاقوں کا سفر کیا ان میں الثميری، الباحہ، حائل، جزیرہ فرسان اور الاحساء نمایاں ہیں۔
اسماعیل ہجلس کے مطابق انہوں نے اپنی مصنوعات میں پودوں کی شکلوں کو استعمال کیا۔ ان میں درخت ، پتے ، پھل اور پھول وغیرہ شامل ہیں۔