عراق

عراق کو مختلف قوتوں کے درمیان جنگ کا اکھاڑا نہیں بننے دیں گے: کاظمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی طرف سے عراق کے نیم خود مختار صوبے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں امریکی قونصل خانے پرمیزائل حملے کے بعد عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کے ملک کو غیر ملکی قوتوں کے درمیان اکھاڑا بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے اتوار کو امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں مزید کہا کہ حکومت کسی بھی حملے کے خلاف ریاست کی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس موقعے پر وزیر بلنکن نے عراق کے ساتھ امریکا کی یکجہتی اور اس کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اس کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

اتوار کو ایران نے شمالی عراق کے شہر اربیل پر بارہ بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا جس میں وہاں پر موجود امریکی قونصل خانے اور اس کے اطراف کو نشانہ بنایا گیا۔

پاسداران انقلاب نے ذمہ داری قبول کرلی

دریں اثنا ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پاسداران انقلاب نے کہا ہےکہ اس نے شہر میں اسرائیلی "اسٹریٹیجک مراکز" کو نشانہ بنایا۔

کردستان کی مقامی حکومت نے کہا کہ میزائلوں نے دیگر مقامات کے ساتھ ساتھ امریکی قونصل خانے کو بھی نشانہ بنایا۔

عراقی وزارت خارجہ نے بغداد میں ایرانی سفیر کو طلب کرکے اس حملے پر احتجاج کیا۔

اشتعال انگیز حملہ

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اس واقعے کو ایک "اشتعال انگیز حملہ" قرار دیا لیکن کہا کہ اس حملے میں امریکیوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ اربیل میں امریکی حکومت کی کسی تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔

اس کے علاوہ عراق میں امریکی سفیر میتھیو ایچ۔ ٹولر نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت کے عناصر نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ انہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔

آخری بار امریکی افواج پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ جنوری 2020 میں کیا گیا تھا۔ یہ حملہ اسی مہینے بغداد کے ہوائی اڈے پر ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے امریکا کے قتل کے رد عمل میں کیا گیا تھا۔

2020 کے حملے میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا لیکن بہت سے لوگوں کے سر پر چوٹیں آئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں