آج اتوار کے روز شمالی عراق کے خود مختار علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل اور وہاں موجود امریکی قونصل خانے کو 12 بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ یہ میزائل عراق کے باہر سے داغے گئے تھے۔
امریکی ذمے داران نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ میزائل ایران سے داغے گئے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ میزائل حملے میں امریکی قونصل خانے کے زیر تعیر کمپاؤنڈ یا کسی امریکی کو نقصان نہیں پہنچا۔
This is the likely reason behind a missile attack from #Iran against #Erbil
— Marco Rubio (@marcorubio) March 13, 2022
Earlier this week they claimed #Israel killed two members of Quds Forcehttps://t.co/mZ8RI43LPr
دوسری جانب امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سینئر ریپبلکن رکن مارکو روبیو نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ یہ بم باری، شام میں اسرائیلی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے دو افسران کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے۔ اسرائیلی حملہ گذشتہ ہفتے ہوا تھا۔
مارکو نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ تہران کئی ماہ سے عراق میں اپنی ایجنٹ شیعہ ملیشیاؤں کے ذریعے امریکی افواج اور مفادات کے خلاف حملے کر رہا ہے۔ اس کا مقصد عراق سے امریکی فوجی اور سفارتی اہل کاروں کے مکمل کوچ کا عمل تیز کرنا ہے۔
جنوری 2020ء میں بغداد ہوائی اڈے کے نزدیک ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد سے عراق میں امریکی مفادات کو درجنوں کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان حملوں میں راکٹوں اور ڈرون طیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
-
ایران سے عراقی کردستان کے صدر مقام اربیل پر 12 بیلسٹک میزائلوں سے حملہ
امریکی قونصل خانے کے قریب کردستان24 ٹی وی چینل کا سٹوڈیو حملے میں تباہ
مشرق وسطی -
عرب اتحاد کے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف 21 اہدافی حملے
عرب اتحاد نے یمن کے صوبوں حجہ اور مآرب میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ...
بين الاقوامى -
ایران کے سینئر مذاکرات کار کی ویانا واپسی، امریکی جواب کا انتظار
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تہران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات ...
مشرق وسطی