ایران نے اسرائیل سے گیس کی ترسیل پرمذاکرات کے ردعمل میں اربیل کوکیوں نشانہ بنایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

عراقی اور ترک حکام نے انکشاف کیا ہے کہ عراق کے خودمختارعلاقےکردستان سے ترکی اور یورپ کو اسرائیل کی مدد سے گیس کی ترسیل کے ایک مجوزہ منصوبہ کی بناپرایران نے رواں ماہ کرد دارالحکومت اربیل پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا کیونکہ وہ اس منصوبے پر نالاں ہے۔

13مارچ کواربیل پرمیزائل حملہ پورے خطے کے حکام کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں تھا اوروہ اس پر ہکا بکا رہ گئے تھے کیونکہ اس میں ایک حقیقی ہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا گیا تھا اور ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے عوامی سطح پرشاید پہلی مرتبہ اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس حملے میں اربیل میں اسرائیل کے ’’تزویراتی مراکز‘‘کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ شام میں اسرائیلی فضائی حملے کا انتقام تھا۔شام میں اسرائیلی بمباری سے اس کے دوارکان ہلاک ہوگئے تھے۔

تاہم ہدف کے انتخاب نے بہت سے عہدے داروں اور تجزیہ کاروں کو چکرا کررکھ دیا۔ 12 میزائلوں میں سے زیادہ تر خود مختارکردستان خطے میں توانائی کے شعبے سے وابستہ ایک معروف کرد تاجر کے ولا سے ٹکرائے تھے۔

عراقی اور ترک حکام نے رواں ہفتے اپنا نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پرکہا کہ یہ حملہ خطے میں امریکی اتحادیوں کے لیے کثیرالجہت پیغام تھالیکن ایک اہم محرک ترکی اور یورپ کے لیے کردستان سے گیس کی ترسیل کا منصوبہ ہے۔اس میں اسرائیل بھی شامل تھا۔

عراق کے ایک سکیورٹی عہدہ دار نے بتایا کہ میزائل حملے کا ہدف ولا میں حال ہی میں اسرائیل اورامریکا کے توانائی حکام اورماہرین کے درمیان دوملاقاتیں ہوئی ہیں۔ان میں کردستان گیس کو نئی پائپ لائن کے ذریعے ترکی ترسیل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ اور پاسداران انقلاب نے فوری طور پر اس موضوع پر تبصرہ نہیں کیا۔

ایرانی سکیورٹی کے ایک سینیرعہدہ دار نے رائٹرزکو بتایا کہ یہ حملہ بہت سے لوگوں اور گروہوں کے لیے ایک کثیر المقاصد پیغام تھا۔اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اس کی تشریح کیسے کرتے ہیں۔ان کے بہ قول توانائی کے شعبے سے لے کر زراعت تک جو کچھ بھی (اسرائیل) منصوبہ بندی کررہا ہے،وہ عملی شکل اختیار نہیں کرے گا۔

دوترک حکام نے تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں عراق سے ترکی اوریورپ کو قدرتی گیس مہیا کرنے کے لیے امریکی اور اسرائیلی حکام سے بات چیت ہوئی ہے۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ملاقات کہاں ہوئی ہے؟

عراقی سکیورٹی اہلکاراورمنصوبہ سے واقف ایک سابق امریکی عہدہ دارنے بتایا کہ کرد تاجر باز کریم برزنجی گیس پائپ لائن کو بچھانے کے منصوبے پرکام کررہے ہیں۔ ان ہی کے ولاکوایران نے میزائل حملے میں نشانہ بنایا تھا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے سے آگاہ نہیں۔خود بازکریم برزنجی نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔عراقی کردستان کے صدرنوشیروان بارزانی کے دفتر نے برزنجی کے ولا میں پائپ لائن پرتبادلہ خیال کے لیے امریکی اور اسرائیلی حکام کے ساتھ کسی بھی ملاقات کی تردید کی ہے۔ کردحکام اپنےعلاقے میں اسرائیل کی فوجی یا سرکاری موجودگی سے بھی انکاری ہیں۔

ترکی اور اسرائیل میں مفاہمت

عراقی، ترک اورمغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس پائپ لائن کے منصوبے پرایران اور خطے کے لیے سیاسی طور پر حساس وقت میں عمل کیا جارہا ہے۔کردستان سے گیس کی برآمد کا منصوبہ ایران کی گیس مہیا کرنے والے بڑے ملک کی حیثیت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جبکہ اس کی معیشت پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں کا شکارہے۔

حالیہ ہفتوں میں ایران اور مغرب کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہوگئی ہیں جس سے تہران پرعاید پابندیاں جلد اٹھائے جانے کے امکانات بشمول اس کے توانائی کے شعبے پرشکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ایران کا سب سے بڑا دشمن اسرائیل اور ترکی اپنے دوطرفہ تعلقات کوبتدریج مضبوط بنا رہے ہیں اور توانائی کے شعبے میں مزید تعاون پرغورکررہے ہیں کیونکہ یوکرین پرحملے کے ردعمل میں روس پر پابندیوں سے یورپ بھر میں توانائی کی شدید قلّت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ ترکی اوراسرائیل مل کراسرائیلی قدرتی گیس کو یورپ تک پہنچاسکتے ہیں۔انھوں نے کردصدر بارزانی سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ انقرہ عراق کے ساتھ قدرتی گیس مہیا کرنے کے معاہدے پر دست خط کرنا چاہتا ہے۔

عراقی اور ترک حکام نے کردستان سے ترکی تک گیس پہنچانےکے منصوبے کے بارے میں کوئی خاص تفصیل بتائی ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس پرکتنی پیش رفت ہوچکی ہےیا اس منصوبے میں اسرائیل کا کیا کردار ہے؟

ترک حکام کا کہنا ہے کہ’’شمالی عراق توانائی کی برآمدات اورممکنہ تعاون کی طرف زیادہ توجہ دے رہا ہے،اس میں اسرائیل بھی شامل ہوگا‘‘۔انھوں نے کہا کہ شمالی عراق میں قدرتی گیس کی برآمدات کے لیے کچھ مذاکرات ہوئے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ عراق، امریکا اوراسرائیل اس عمل میں شامل تھے۔ترکی بھی اس منصوبہ کی حمایت کرتا ہے۔

عراقی سکیورٹی عہدہ دار نے بتایا کہ امریکا اوراسرائیل کے توانائی کے ماہرین کے ساتھ اس معاملے پرتبادلہ خیال کے لیے دوملاقاتیں برزنجی کے ولا میں ہوئی ہیں۔اس سے ایران کے میزائل حملے کے ہدف کے انتخاب کی وضاحت ہوجاتی ہے۔اس حملے میں کسی کو شدید چوٹ تونہیں آئی۔ البتہ ولاکو شدید نقصان پہنچا۔

عراقی حکومت کے ایک عہدہ داراورعراق میں ایک مغربی سفارت کار نے بتایا کہ برزنجی اپنی اقامت گاہ پرغیرملکی عہدے داروں اور تاجروں کی میزبانی کے لیے معروف ہیں اوران میں اسرائیلی مہمان بھی شامل تھے۔

عراق کےسکیورٹی عہدہ داراور سابق امریکی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ برزنجی کی سی اے آر گروپ کمپنی گیس برآمدی پائپ لائن کوبچھانے کا منصوبہ تیزی سے مکمل کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔یہ نئی پائپ لائن ترکی میں نصب شدہ اس پائپ لائن سے جڑ جائے گی جو پہلے ہی اس کے سرحدی حصے میں مکمل ہوچکی ہے۔

کردستان کے ایوان صدر کے چیف آف سٹاف فوزی حریر نے بتایا کہ کار گروپ کرد خطے کی گھریلو پائپ لائن کی تعمیراورانتظام کرتا ہے۔ یہ لیز معاہدے کے تحت کردستان کی تیل برآمدی پائپ لائن کے ایک تہائی حصے کا بھی مالک ہے۔ باقی روس کی کمپنی روزنیفٹ کی ملکیت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں