دنیا کے سامنے سعودی عرب کی حقیقی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں : ڈائریکٹر"سلام" پروجیکٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں تہذیبی رابطے سے متعلق منصوبے "سلام" کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹرفہد السلطان کا کہنا ہے کہ 2015ء میں تاسیس پانے والے اس منصوبے کا مقصد سعودی عرب سے متعلق ذہنی تصور کی حقیقت کا مطالعہ اور جائزہ ہے۔ علاوہ ازیں باہمی بقاء، رواداری اور تہذیبی رابطے کے اُن مظاہر کو اجاگر کرنا ہے جنہیں سعودی عرب میں یقینی بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے تمام متعلقہ پروگرام ویژن 2030 کے ضمن میں ہیں۔

السلطان نے باور کرایا کہ "سلام" درحقیقت سعودیوں اور دیگر معاشروں کے افراد کے بیچ مکالمے ، کھلے رابطے اور مثبت مفاہمت کے لیے ایک با مقصد پلیٹ فارم ہے۔ اس کے ذریعے تمام افراد کے درمیان مشترکہ انسانی اور ثقافتی اقدار کا تعارف حاصل کیا جا سکے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر فہد السلطان نے واضح کیا کہ "سلام منصوبہ دنیا کی اقوام کے سامنے سعودی عرب کی حقیقی تصویر پیش کرنے میں کردار ادا کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت محققین کے ہاتھوں تحریر کیے جانے والے 85 مکتوبات کا بھی اجرا عمل میں آئے گا۔ یہ منصوبہ علمی اور عملی اقدامات کے ذریعے تہذیبی رابطے کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے"۔

السلطان کے مطابق "سلام" منصوبے کے تحت سعودی عرب کی نوجوان قیادت کے لیے تربیتی پروگرام تیار کیے گئے ہیں۔ ان کا مقصد سعودی نوجوان مرد اور خواتین کو عالمی فورموں پر مملکت کی نمائندگی کے لیے تیار کرنا ہے۔ السلطان نے مزید بتایا کہ سلام منصوبے میں "تواصل" کے نام سے ایک پروگرام ہے۔ اس میں سعودی نوجوان مرد اور خواتین کی دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم عصروں کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔ اس طرح مملکت سعودی عرب کی تہذیبی تصویر سامنے لائی جائے گی۔ اب تک اس پروگرام کے تحت 40 سے زیادہ ملاقاتوں کا نعقاد کیا جا چکا ہے۔

السلطان نے واضح کیا کہ سلام منصوبے کے تحت دنیا کے مختلف ممالک میں اسکالر شپ پر تعلیم حاصل کرنے والے سعودی طلبہ و طالبات کے لیے "جسور" پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں