ایران میں پھانسیوں کی شرح میں 25 فیصد اضافہ ہوا،سزا پانے والی خواتین دوگنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دو غیر سرکاری تنظیموں نے ایران میں سزائے موت کے اطلاق میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران میں سال 2021 میں پھانسیوں پرعمل درآمد میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ سزا پانے والی خواتین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے دونوں اداروں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں سزائے موت کے معاملات کو بھی ترجیحاً شامل کریں۔

"ایران ہیومن رائٹس" اور "ٹوگیدر اگینسٹ دی ڈیتھ پنلٹی" نامی تنظیموں نے جمعرات 28 اپریل کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے ذریعے بین الاقوامی میدان میں مضبوط واپسی کا آغاز کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی سزائے موت پر عمل درآمد جاری رکھا ہو ہے۔ سزائے موت کو مخالفین کو دبانے کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

سزائے موت سے متعلق 14ویں سالانہ رپورٹ جو "ایران ہیومن رائٹس" اور فرانس میں قائم "Together Against the Death Penalty" نامی تنظیموں کی طرف سے جاری کی گئی ہےکے مطابق ایران میں 2021 میں کم از کم 333 افراد کو پھانسی دی گئی جو کہ 2020 میں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔2020ء میں ایران میں 267 ملزمان کو دی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔

ایران میں پھانسی کے ذریعے سزائے موت دی جاتی ہے اور یہ ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں سب سے زیادہ پھانسیاں دی جاتی ہیں۔

دونوں تنظیموں نے انکشاف کیا کہ گذشتہ جون میں صدر ابراہیم الرئیسی کے منتخب ہونے کے بعد پھانسیوں کی تعداد میں تیزی آئی اور 2021 کی دوسری ششماہی میں پہلی ششماہی کے مقابلے میں پھانسیوں پرعمل درآمد دوگنا ہوگیا۔

100 سے زائد صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں نو خواتین جب کہ 2021ء دو کم عمر لڑکیوں سمیت 17 خواتین کو سزائے موت دی گئی۔

دونوں تنظیموں کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق پھانسیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ایک سال کے دوران منشیات کیسز میں 126 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ سال 2020ء میں یہ تعداد 100 کیسز تک محدود تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں