نیوم میگا سٹی منصوبہ سعودی قواعد کے تابع ہو گا: ذرائع

’’ نیوم میں بسنے والی کی درجہ بندی مملکت کے دوسرے شہروں کے رہائشیوں سے مختلف نہیں ہو گی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی حکومت کے ذرائع نے سرکاری خبر رساں ادارے ’’ایس پی اے‘‘ کو بتایا ہے ’’نیوم‘‘ میگا سٹی کے اقتصادی امور کے لیے اگرچہ علاحدہ سے قانون سازی کی جائی گی، تاہم اس کے باوجود یہاں سعودی عرب کے قواعد وضوابط لاگو ہوں گے۔

اس امر کی وضاحت نیوم کے شعبہ سیاحت کے سربراہ اینڈریو مک آوے کے عربیئن ٹریول مارکیٹ دبئی میں مقامی پریس کو دیے جانے والے بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ان سے یہ بات منسوب کی گئی تھی ’’کہ نیوم میں شراب کی فروخت کا معاملہ خارج از امکان نہیں۔‘‘

ماضی میں حکام کی طرف سے اس امر کا اشارہ دیا گیا تھا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بسائے جانے والے اس اسٹرٹیجک شہر میں شراب کی فروخت کی اجازت ہو گی۔ گذشتہ برس اکتوبر میں ایک نامعلوم اعلیٰ عہدیدار نے بتایا تھا کہ ’’حساس‘‘ ایشو سے متعلق غور کیا جا رہا ہے۔

ایس پی اے کے مطابق نیوم کے رہائشیوں کی درجہ بندی مملکت کے دوسرے علاقوں میں رہنے والوں شہریوں سے مختلف نہیں ہو گی۔

ذرائع نے بتایا کہ نیوم منصوبہ خصوصی اقتصادی زونز کے اندر کام کرے گا جو سعودی عرب کی خودمختاری، سکیورٹی، دفاعی اور ریگولیٹری پہلوؤں سے متعلق وضع کردہ ضوابط کے تحت ہوگا۔

پروجیکٹ کی ترقی کے لیے مخصوص اقتصادی قانون سازی کی جائے گی تاکے نیوم کو اقتصادی خطوں کے بہترین تصورات سے ہم آہنگ کرکے اسے دنیا بھر میں ترقی یافتہ معاشی وسیاحتی مقام کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں