فلسطین کے علاقے غرب اردن سے زیادہ تر فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان خون ریز جھڑپوں کی خبریں آتی رہتی ہیں مگرغرب اردن کے شمالی شہر جنین میں ایک بد بخت شخص نے اپنے والد کو قتل کرکے اس کی لاش صحن میں دفن کردی۔
فلسطینی شہری دفاع کے عملے نے منگل کی صبح شہر کے جنوب میں واقع قصبے عجہ میں ایک گھرکے صحن میں مضبوط کنکریٹ کے نیچے سے ایک شخص کی لاش نکالی۔
تفصیلات کے مطابق فلسطینی پولیس نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ ایک نوجوان نے انہیں بتایا کہ اس نے اپنے والد کی لاش کو جنین کے جنوب میں واقع قصبے عجہ میں اپنے گھر کے صحن میں دفن کیا تھا اور اس پر سیمنٹ ڈالا تھا۔
پولیس کا کنا ہے کہ سکیورٹی سروسز اس مقام پر پہنچیں اور لاش ملنے تک اس کی تلاش جاری رکھی۔
فيديو| تواصل أعمال البحث عن جثة مواطن قتله ابنه ودفنه وصب عليه الأسمنت في بلدة عجة بجنين pic.twitter.com/WvIvWG6fG9
— وكالة شهاب للأنباء (@ShehabAgency) July 11, 2022
دو گھنٹے تک کھدائی
پولیس نے بتایا کہ سول ڈیفنس کا عملہ دو گھنٹے کی کھدائی اور تلاش کے بعد شہری کی لاش کو اس کے گھر کے صحن میں مضبوط کنکریٹ کے نیچے سے نکالنے میں کامیاب ہوا اور لاش کو متعلقہ حکام کے حوالے کر کے تحقیقات مکمل کر لیں۔
اس کے علاوہ مقامی میڈیا نے بتایا کہ 46 سالہ راضی راشد عمریہ کو ان کے 20 سالہ بیٹے عامر نے قتل کر دیا تھا۔
پولیس نے نشاندہی کی کہ یہ جرم 12 دن پہلے ہوا تھا اور قاتل نے آج تک اس پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔
عوام میں شدید غم وغصہ
قابل ذکر ہے کہ بیٹے کے ہاتھوں باپ کے بہیمانہ قتل پر عوامی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر شہریوں نے قاتل بد بخت کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس پرقاتل بیٹے اور اس کے مقتول والد کی تصاویر بھی شائع کیں۔
ایک ویڈیو کلپ بھی نشر کیا گیا میں قاتل بیٹے کے اعتراف کے بعد سول ڈیفنس کے عملے کو لاش نکالنے کا کام کرتے دکھایا گیا۔