جوہری ایران

جوہری مذاکرات میں تعطل،ایران نے 61 امریکیوں پر پابندیاں عاید کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ایران نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اس نے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو سمیت مزید 61 امریکیوں پر ایرانی اپوزیشن گروپ کی حمایت کرنے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں عاید کی گئی ہیں جب ایران اور عالمی طاقتوں بالخصوص امریکا کے ساتھ سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کوبحال کرنے کے لیے بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ جلاوطن حزب اختلاف کی جماعت ’مجاہدین خلق گروپ‘ کی حمایت کے اظہار پر ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے بلیک لسٹ کیے گئے دیگر عہدیداروں میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی گیولیانی اور وائٹ ہاؤس کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن بھی شامل ہیں۔

ماضی میں درجنوں امریکیوں کے خلاف مختلف وجوہات کی بناء پر جاری کی گئی پابندیوں نے ایران میں اپنے کسی بھی اثاثے کو ضبط کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن ایسے اثاثوں کی ظاہری عدم موجودگی کا مطلب ہے کہ یہ اقدامات زیادہ تر علامتی ہوں گے۔

جیولائی
جیولائی

جیولانی، پومپیو اور بولٹن کے پیپلز مجاہدین تنظیم کی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور اس گروپ کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرنے کی اطلاعات ہیں۔

جنوری میں ایران نے 51 امریکیوں پر پابندیاں عائد کیں اور پابندیوں کے جواب میں اپنے تازہ ترین اقدامات میں اپریل میں مزید 24 امریکیوں کو بلیک لسٹ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں