ماسکو اور تل ابیب کے درمیان کشیدہ تعلقات کی روشنی میں اسرائیل نے مُنگل کو اعلان کیا کہ اس کے فوجی طیارے مئی میں شام پر روسی طیارہ شکن گولہ باری کی زد میں آئے، لیکن وہ فائرنگ سے بچ نکلے۔ اسرائیل نے اس واقعے کو انفرادی نوعیت کا معاملہ قرار دیا۔
اسرائیلی چینل 13 نے اطلاع دی ہے کہ 13 مئی کو روسی S-300 ایئر ڈیفنس بیٹری نے اسرائیلی طیاروں پر اس وقت گولی چلائی اسرائیلی طیارے شام میں ایک فضائی کارروائی کےلیے جا رہے تھے۔ تاہم روسی فوج کی فائرنگ سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا ہے۔
وزیر دفاع بینی گینٹز کی طرف سے اس واقعے کا انکشاف اسرائیل کی یوکرین میں جنگ کی مذمت اور ماسکو کی طرف سے یہودی امیگریشن ایجنسی کے خلاف جانچ کے اقدامات کرنے پر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کے جلو میں سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا انفرادی واقعہ ہے۔
مستحکم حالت
ٹی وی چینل کے مطابق روسی فائرنگ اس وقت ہوئی جب "طیارے دور چلے گئے اور تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو گئے۔"
اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا کہ شام پر روس کے ساتھ اسرائیل کی ہم آہنگی "اب ایک مستحکم صورتحال میں ہے۔ میرے خیال میں ہم ہمیشہ اس کہانی کا جائزہ لیتے ہیں گویا ہم نے اسے ابھی شروع کیا ہے۔
رایٹرز نے اسرائیل میں روسی سفارت خانے سے اس خبر پر رائے معلوم کرنے کی کوشش کی مگر سفارت خانے کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔