شام میں کردحکام کے زیرانتظام شہرمیں اجتماعی قبر سے درجنوں لاشیں برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے شمالی شہرمنبج میں ایک اجتماعی قبر سے قریباً 30 لاشوں کی باقیات ملی ہیں۔انھیں ممکنہ طور پرانتہا پسندوں نے ہلاک کیا تھا۔

منبج میں کرد سویلین کونسل کے ایک عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پربتایا ہے شہرمیں واقع ایک ہوٹل کے قریب ایک اجتماعی قبرسے 29 لاشیں ملی ہیں۔ان میں ایک خاتون اوردوبچوں کی بھی لاشیں شامل ہیں۔

سخت گیرجنگجو گروپ داعش نے 2014ء سے 2016ء تک اس شمالی شہر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کی تھی اور اس نے اس ہوٹل کو جیل میں تبدیل کردیا تھا۔منبج فوجی کونسل کے مطابق بدھ کے روز اس اجتماعی قبر کا سراغ میونسپل کارکنوں نے لگایا تھا۔ وہ سیوریج کا نظام ٹھیک کرنے کاکام کر رہے تھے اور اس دوران میں انھیں لاشیں ملی تھیں۔کچھ بوسیدہ باقیات کوہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں اوربعض کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ملی ہیں۔

فوجی کونسل نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ انھیں کب قتل کیا گیا تھا لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ داعش کے منبج پرکنٹرول کے دور کا واقعہ ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا کہ یہ باقیات داعش کے جنگجوؤں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے افراد کی ہیں۔امریکاکی حمایت یافتہ کرد ملیشیا کے زیرقیادت شامی جمہوری فورسز نے 2016 میں انتہا پسندوں کو بے دخل کرنے کے بعد منبج پر قبضہ کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ عراق اور شام میں اب تک درجنوں اجتماعی قبریں ملی ہیں لیکن ان کی شناخت کا عمل سست، مہنگا اور پیچیدہ ہے۔

داعش نے 2014ء میں عراق اور شامی علاقے کے بڑے حصے پرقبضہ کرلیا تھا اور ہزاروں افراد کوحراست میں لے لیا تھا،پھران میں سے سیکڑوں افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

داعش کے زیرقبضہ رہنے والے میں سب سے بڑی مبیّنہ اجتماعی قبروں میں سے ایک سے 200 لاشیں برآمد ہوئی تھیں اوراسے 2019 میں شام میں اس جنگجو گروپ کے سابق ظاہری دارالحکومت الرقہ کے قریب واقع علاقے میں دریافت کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے باربارکرد حکام اور شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ داعش کے قبضے کے وقت لاپتا ہونے والے ہزاروں افراد کے انجام کی تحقیقات کریں۔ان لاپتا افراد میں برطانوی نامہ نگار جان کینٹلی اور اطالوی جیسوئٹ پادری پاولو ڈل اوگلیو بھی شامل ہیں۔

سنہ 2011ء کے اوائل میں شروع ہونے والی شام کی جنگ میں قریباً پانچ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اورجنگ سے پہلے ملک کی کل آبادی میں سے نصف کودربدر ہونا پڑا ہے۔اس وقت لاکھوں شامی اندرون ملک میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں اورلاکھوں ہی ہمسایہ ممالک میں پناہ گزین کے طور پرمقیم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں