غزہ میں جنگ بندی کی اطلاعات کے دوران میں مزید 11 افرادشہید، تعداد41 ہوگئی

متحدہ عرب امارات، فرانس، چین اور دیگر ممالک نے سلامتی کونسل کا بند کمرے کا اجلاس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ اتوار کی شام محصور فلسطینی علاقے میں اسرائیلی فوج کےحملے میں مزید گیارہ افراد شہید ہوگئے ہیں۔

وزارت صحت نے اپنے مزید بیان میں مزید کہا کہ غزہ پرجمعہ کو اسرائیلی فوج کے حملے کے آغاز سے اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر41ہوگئی ہے۔ان میں پندرہ بچے اور چار خواتین شامل ہیں۔ان کے علاوہ 311 افراد زخمی ہوئے ہیں اور وہ مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات، فرانس، چین اور دیگر ممالک نےغزہ کی تازہ صورت حال پر بحث کے لیے سوموار کو سلامتی کونسل کا بند کمرے کا اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ سے ایک ناکام راکٹ فائر کے نتیجے میں جبالیہ کیمپ میں بچوں سمیت عام شہری مارے گئے۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ جبالیہ کیمپ میں ہلاکتوں کی تعداد 7 تک پہنچ گئی ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں اورمتعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تل ابیب پر راکٹ حملے

اسلامی جہاد تحریک کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے تل ابیب، اشدود، عسقلان اور سدیروت پر بڑے پیمانے پر راکٹ حملے کیے ہیں۔

’سرایا القدس‘ نے ٹیلی گرام پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے غزہ میں تنظیم کے کمانڈر تیسیر الجعبری کی ہلاکت کے ردعمل میں راکٹ فائر کے مناظر کے کلپس بھی شائع کیے اور بتایا کہ یہ راکٹ اسلامی جہاد کی طرف سے داغے گئے ہیں۔

نامعلوم اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ غزہ سے داغے گئے بڑے راکٹ عسقلان کے بعد عسقلان اور سدیروت پر گرنے کے نتیجے میں متعدد مکانات اور ایک فیکٹری کو نقصان پہنچا۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز غزہ پر فضائی حملے کیے تھے، جس کے جواب میں اسلامی جہاد نےصہیونی ریاست کے کئی شہروں پر راکٹ فائر کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں