سعودی عرب میں پہلی بار ساٹھ خواتین کو ماہی گیری کے پیشے کی تربیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے مملکت میں پہلی بارماہی گیری کے پیشے میں خواتین کی باضابطہ شمولیت کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ اس ضمن میں ساٹھ خواتین کو ماہی گیری کے پیشے کے لیے ٹریننگ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

سعودی نیشنل فشریز ڈویلپمنٹ پروگرام کے ایگزیکٹو نائب صدر موسیٰ الکنانی نے کہا کہ مملکت میں پہلی بار ماہی گیری کے پیشے میں کوالیفائی کرنے کے لیے 60 لڑکیوں کو ایک پروجیکٹ کے لیے قبول کیا گیا ہے۔

الکنانی نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں شامل ہونے والی سعودی خواتین کی تعداد 60 ہے۔انہیں ماہرین کی نگرانی میں مچھلی کی مصنوعات کی فروخت اور مارکیٹنگ میں مہارت رکھنے والے "حل" ٹریک میں تربیت دی جائے گی۔

الکنانی نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ماہی گیری کے پیشے کے لیے سعودی نوجوانوں کی تربیت کرنا اور انہیں اس کا اہل بنانا ہے۔ یہ کہ وزارت کے پاس بہت سے اسٹریٹجک منصوبے ہیں، جو نوجوانوں اور خواتین کے لیے متعدد تکنیکی اور دستکاری کے شعبوں میں ملازمت کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ متعدد پیشوں کو مقامی بنانے اور نوجوان مردوں اور عورتوں کی بحالی کے لیے 4 اقدامات کیے گئے ہیں جن میں شہد کی مکھیاں پالنے، ماہی گیری، مویشی پالنے والے اور زراعت کا پیشہ شامل ہیں۔

ماہی گیری کے پیشے کے بارے میں الکنانی نے وضاحت کی کہ اس پیشے کو 4 اہم شعبوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ تین سمندر سے باہر (ٹرانسپورٹیشن اور ڈسٹری بیوشن، سیلز اینڈ مارکیٹنگ، سپورٹ سروسز اور آپریشن) کے علاوہ ایک شعبہ سمندر کے اندر سےمچھلیوں کے شکار سے متعلق ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ تیسرے سیکٹر "مارکیٹنگ" میں 90 فیصد اہداف خواتین ہیں اور آخری سیکٹر "سپورٹ سروسز اینڈ آپریشن" کا مقصد ان کشتیوں کے لیے ضروری خدمات فراہم کرنا ہے جن کو پورٹ سروسز تک رسائی نہیں ہے، جیسے ایندھن بھرنا، دیکھ بھال، آپریشن، نگرانی وغیرہ جیسے کام خواتین انجام دے سکیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں