شوہرکو دیکھ کرکامیاب ماہی گیربننے والی سعودی عرب کی انوار کا تجربہ کیسا رہا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ماہی گیری جیسے مشکل پیشے کوعموما مردوں کا کام خیال کیا جاتا ہے مگر سعودی عرب کی انوارالصعدی نے یہ مشکل پیشہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔

انوارکا کہنا ہے کہ ماہی گیری ایک شوق ہے اور انہیں یہ شوق اپنے شوہر سے ملا جوخود بھی ایک ماہی گیر ہیں۔ اس کے بعد میں نے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ماہی گیری شروع کی۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں انوار الصعدی نے کہا کہ وہ اپنے شوہر کو اس وقت دیکھ رہی تھیں جب وہ ماہی گیری کے اوزار تیار کرنے میں بڑی کوشش کر رہے تھے۔ میں نے اس کام میں اپنے شوہر کا صبر اور ان کا حوصلہ دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں خوشی اور مسرت دیکھی۔ یہ خوشی اس وقت دیکھی تھی جب انہوں نےایک قیمتی مچھلی کا شکار کیا تھا۔

الصعدی نے شکار کے اپنے شوق کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنا مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے 15 گھنٹے سے زیادہ شکار کرتی رہتی ہے۔

مچھلی پکڑنا سیکھیں

انوار الصعدی نے بتایا کہ ان کے شوہر نے انہیں مچھلی پکڑنا سکھانے کی پیشکش کی اور انہوں نے سیکھ کر چھوٹی مچھلیاں پکڑنا شروع کر دیں۔ یہاں تک کہ وہ ہر قسم کی مچھلیاں پکڑنے کے قابل ہو گئیں۔اس مقام تک پہنچنے میں انہیں 5 سال لگے۔ آج وہ ایک کامیاب ماہی گیر ہیں۔ اس دوران انوار نے چھوٹی مچھلی، کیکڑے، سارڈینز، سکویڈ اوردیگرمچھلیوں کے شکار کی تربیت مکمل کی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ماہی گیری ایک ہنر، فن اور مثبت توانائی ہے جو ماہی گیروں کو صبر، برداشت، انتظار اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سکھاتی ہے۔ تب وہ خوبصورت احساسات کے ساتھ زندگی کی تجدید کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں