امریکی فوج کی شام میں کارروائی؛داعش کا عہدہ دار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ اس نے شام میں ایک گاؤں پرہیلی کاپٹرسے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں داعش کا ایک مبیّنہ عہدہ دار ہلاک اور اس کا ایک ساتھی زخمی ہوگیا ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات امریکا کی سینٹرل کمانڈ کی فورسز نے شمال مشرقی شام میں واقع قصبے قامشیلی کے قریب ایک گاؤں میں ہیلی کاپٹر سے چھاپامار کارروائی کی،اس میں داعش کے ایک اہلکار رکن وحید الشمری کو نشانہ بنایا گیا تھا،وہ داعش کی کارروائیوں میں معاونت کے لیے ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی اسمگلنگ میں سہولت مہیا کرتا تھا۔

اس چھاپے کے دوران میں داعش کے دو دیگر ارکان کو گرفتارکرلیا گیا۔مرکزی کمان کے ترجمان کرنل جو بوکینو نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران میں کوئی امریکی فوجی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔کوئی عام شہری بھی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا، اورامریکی سازوسامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

شام کے شمال مشرق میں واقع یہ گاؤں صدر بشارالاسد کی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔امریکا اس سے قبل بھی شام میں داعش کے ارکان کے خلاف چھاپا مارکارروائیاں کرچکا ہے لیکن جمعرات کے روز صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز کے زیر قبضہ علاقے میں یہ اس پہلا آپریشن ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اپنے ٹیلی گرام چینل میں بتایا کہ جمعرات کی علی الصباح امریکی اسپیشل فورسز نے شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں حکومت کے زیر قبضہ گاؤں ملوک سرائے پر ایک نایاب آپریشن کیا تھا۔

امریکا کی مرکزی کمان کے ترجمان کرنل جوزف بوکینو نے العربیہ کو بتایا کہ امریکی فورسز نے بدھ کی رات ایک ’’چھاپامارکارروائی‘‘ کی ہے۔اس میں ’’داعش کے ایک سینئر عہدہ دار‘‘کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہلاک ہونے والا شخص داعش کا ایک اہلکار تھا اور وہ امریکا کو مطلوب تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مہلوک شخص علاقے میں داعش کے سلیپرسیلوں کے درمیان رابطہ کاری کا ذمہ دار تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں