اسرائیلی فائرنگ ، اٹھارہ سالہ فلسطینی اسامہ العدوی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی فوج نے ایک اور فلسطینی نو عمر کو گولی مار کر شہید کردیا ہے۔ یہ واقعہ بھی مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک علاقے میں پیش آیا ہے۔ جہاں گذشتہ کئی ماہ سے اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے خلاف اپنی مہم میں شدت پیدا کر رکھی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق بدھ کے روز 18 سالہ اسامہ عدوی کو قابض فوج کی طرف سے کی گئی فائرنگ کا نشانہ بنا اور اس کے پیٹ میں گولی لگی۔ جس کے بعد اس کا بچنا ممکن نہ رہا۔ '

وزارت صحت کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ پناہ گزینوں کے العروب کیمپ پر اسرائیلی فوج کے چھاپے کے دوران پیش آیا۔ یہ پناہ گزین کیمپ مغربی کنارے جنوب میں واقع ہے۔ ' سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسامہ عدوی کو اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں گولی لگی تھی۔

اس واقعے میں اسرائیلی فوج نے نہ صرف آنسو گیس کا استعمال کیا بلکہ فلسطینیوں پر فائرنگ بھی کی۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس واقعے کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ حتیٰ کہ میڈیا کی طرف سے رابطہ کرنے کے بعد بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

ایک روز قبل ایک اسرائیلی فوجی کو چیک پوائنٹ پر ہلاک کر دیا تھا، نو عمر فلسطینی اسامہ عدوی کی شہادت کا واقعہ ایک روز بعد پیش آیا ہے۔ تاہم اب معمول یہ بن چکا ہے کہ فلسطینی بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ کہیں بھی اس طرح کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔

ادھر مشرقی یروشلم میں فلسطینی عوام نے بدھ کے روز احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرین شعفاط پناہ گزین کیمپ پر ایک روز پہلے اسرائیلی فوجی حملے کے خلاف بہت بڑی تعداد میں نکلے تھے۔ اس مظاہرے کے دوران فلسطینیوں نےاسرائیلی قابض فوج کی شیلنگ اور فائرنگ کے جواب میں فوجیوں پر پتھراو کیا ۔

خیال رہے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں روز مرہ کا معمول بن چکی ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران درجنوں فلسطینی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں