بائیڈن کی اسرائیلی صدر سے ملاقات، ایرانی جوہری مسئلہ پر تبادلہ خیال

ہماری دنیا میں عدم استحکام میں ایران کے ہتھیاروں کا بڑا کردار، عالمی برادری کو چاہیے اسے سبق سکھائے: اسحاق ہرتصوغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ نے کہا ہے کہ انہوں نے بدھ کو اپنے امریکی ہم منصب جو بائیڈن کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور ایران کی جانب سے یوکرین میں استعمال ہونے والے ڈرونز کی روس کو فراہمی کے معاملہ پر بھی بات چیت کی ہے۔

ہرتصوغ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور تہران کے اپنے شہریوں پر جبر کے متعلق بھی تبادلہ خیال ہے۔

بائیڈن اور ہرتصوغ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری سرحد کی حد بندی کے لیے طے پانے والی سمجھوتہ پر خوشی کا اظہار کیا اور بائیڈن نے اس مفاہمت کو ایک "تاریخی معاہدہ" قرار دیا۔

بائیڈن نے ہرتصوغ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اس معاہدہ کیلئے بڑی ہمت درکار تھی۔ اس کے لیے اصولی سفارت کاری اور استقامت کی ضرورت تھی۔

بائیڈن نے کہا کہ سمندری سرحدی حد بندی کا معاہدہ دونوں ممالک کو توانائی کے شعبوں کو ترقی دینے کی اجازت دے گا اور اس معاہدہ سے نئی امید اور اقتصادی مواقع پیدا ہونگے۔

خیال رہے اسرائیلی صدر کا دورہ واشنگٹن ایران کی جوہری سرگرمیوں پر تقسیم سے پیدا ہونے والے تناؤ کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ معاہدہ ایران کو ایک بار پھر بین الاقوامی نگرانی کے تحت لا رہا ہے اور پابندیاں ہٹانے کے بدلہ میں ایران کے پرامن رہنے کی ضمانت دیتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کی مخالفت کر رہا ہے۔

دونوں صدور کی ملاقات میں یوکرین کے مسئلہ پر بھی بات کی گئی۔ یوکرین میں امریکہ روس کا مقابلہ کرنے میں مغرب نواز ریاست کی مدد کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔ کئیف کی درخواستوں کے باوجود اسرائیل تنازع میں براہ راست ملوث ہونے کیلئے آمادہ نہیں اور کہ چکا ہے کہ وہ یوکرین کو گولہ بارود نہیں تاہم وارننگ سسٹم ضرور فراہم کر سکتا ہے ۔

ہرتصوغ کا دورہ امریکہ یوکرین جنگ میں ایران کے بڑھتے ہوئے کردار کے بارے میں اسرائیل کے خدشات کو اجاگر کر رہا ہے کیونکہ ایران پر الزام ہے کہ اس کے فراہم کردہ ڈرونز یوکرینی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔

اسی تناظر میں ہرتصوغ نے کہا ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی طرف بڑھ رہا اور روس کو مہلک ہتھیار فراہم کر رہا ہے جس سے یوکرین کے معصوم شہری مارے جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایرانی چیلنج ان بڑے چیلنجوں میں سے ہو گا جن پر ہم بات کریں گے۔

منگل کے روز ہرزوگ نے امریکی وزیر خارجہ بلنکن سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کو ایسی معلومات سے آگاہ کیا ہے جو ثابت کرتی ہیں کہ یوکرین کی جنگ میں ایرانی ڈرونز استعمال کئے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں